چین کی بلوچستان میں حملوں کی مذمت، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بیجنگ:
چین نے بلوچستان میں حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا عزم دہرایا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے معمول کی میڈیا بریفنگ کے دوران بلوچستان میں گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ چین حال ہی میں بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چین ان حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔
لین جیان نے کہا کہ چین ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے، یک جہتی جاری رکھنے اور سماجی استحکام اورعوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پاکستان سے بھرپور تعاون کرے گا۔
پاکستان میں چین کے سفارت خانے کی جانب سے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں چینی سفارت خانے کہا کہ ہم قیمی جانوں کے ضیاع پر انتہائی غمزدہ ہیں اور جاں بحق شہریوں کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ہر طرح کی دہشت گردی کا مخالف ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔
خیال رہے کہ ہفتے کو بلوچستان کے مختلف مقامات پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں 15 سیکیورٹی اہلکار 18 عام شہری شہید ہوگئے تھے۔
آئی ایس پی آر نے بیان میں بتایا تھا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 177 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔
بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی چین کے علاوہ امریکا، یورپی یونین، ایران اور دیگر کئی ممالک نے مذمت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں دہشت گردی کے حملوں کی کہا کہ کہ چین
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔