بلوچستان: دہشت گرد حملوں میں بھارت اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارت اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب ہوگئی ہے۔حالیہ دہشت گردی بلوچستان کے استحکام کے خلاف ایک بیرونی منظم سازش کی کڑی ہے، شواہد سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ بھارت اورغیرملکی عناصر کا گٹھ جوڑ اور سہولت کاری شامل ہے۔ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور دیگر ساز و سامان غیر ملکی ساختہ ہے، جن کی مالیت لاکھوں میں ہے، ہلاک ہر دہشت گرد کو 20 سے 25 لاکھ روپے کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا۔اس کے علاوہ برآمد ہونے والے بیرونی ساختہ اسلحے میں M16 اور M4 جیسی رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزر اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں۔دہشت گرد بیرونی ساختہ کمبٹ گیرز، بندولئرز، بلٹ پروف جیکٹس اور وائرلیس سیٹس سے بھی لیس پائے گئے، فتنہ الہندوستان کے ہلاک دہشت گردوں سے بے حس کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے۔دفاعی ماہرین نے سوال اٹھایا کہ احساس محرومی اور لاپتہ افراد کا جھوٹا بیانیہ گھڑنے والے دہشتگردوں کے پاس لاکھوں مالیت کا اسلحہ اور سامان کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے سیکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کا پاکستان کو بلوچستان سے محروم کرنے کی دھمکی والا بیان ان شواہد پر مہر ثبت کرتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشت گرد حملوں بلوچستان میں سہولت کاری بھارت اور حملوں کی مذمت کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔