بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔
امریکا، چین، روس، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ، یو اے ای سمیت دیگر ممالک نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹیلی بیکر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، امریکا پاکستان کے ساتھ یکجہتی میں شریک ہے۔
چین کی جانب سے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے، قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔
راولپنڈی، کوئٹہ، مستونگ، سکیورٹی فورسز نے ’فتنہ.
چین نے کہا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں، امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔
روس کی جانب سے بھی بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
سعودی عرب و خلیجی ممالک نے بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں، امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی میڈیا را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بلوچستان واقعے کے بعد گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں گرد حملوں کی مذمت کی
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔