بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شدید بد عنوانی کی زد میں آگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (جسارت نیوز)ماتلی اور اس کے گرد و نواح میں مستحقین کے لیے شروع کیا گیا غربت مٹاؤ پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس وقت شدید بدعنوانی کی زد میں ہے۔ ڈیوائس ہولڈر مافیا نے ان فلاحی اسکیموں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، جس کے باعث غریب خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت کی جانب سے مختلف کیٹیگریز کی پیمنٹس (Payments) جاری کی جاتی ہیں، جن میں خواتین کی سہ ماہی قسط کے علاوہ بچوں کے ماہانہ تعلیمی وظیفے بھی شامل ہیں، مگر ایجنٹ مافیا ان تمام پیمنٹس میں سے من مانی کٹوتیاں کر رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوائس ہولڈرز دیہی علاقوں کی ان پڑھ اور سادہ لوح خواتین کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ ان کی رقم کم آئی ہے، حالانکہ حکومت کی طرف سے 13,000 سے 13,500 روپے تک کی رقم بھیجی جا رہی ہے۔ ان مختلف ادائیگیوں میں سے فی کس ایک ہزار سے تین ہزار روپے (1000 سے 3000) تک کی غیر قانونی کٹوتی کی جا رہی ہے۔ خواتین دور دراز علاقوں سے کرائے بھر کر آتی ہیں لیکن اس منظم لوٹ مار کے باعث انہیں ان کا پورا حق نہیں مل رہا۔اس تمام صورتحال میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈیوائس ہولڈر مافیا اس قدر طاقتور ہو چکی ہے کہ انہیں کسی قانونی کارروائی یا پولیس کا کوئی خوف نہیں۔ انتظامیہ کی خاموشی اور بعض بینک اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت نے ان کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مختلف پیمنٹس کے نام پر ہونے والی اس کرپشن کا فوری نوٹس لے اور ان پڑھ خواتین اور معصوم بچوں کے وظیفے پر ڈاکہ ڈالنے والے ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔