جنوبی افریقہ میں دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی دریافت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیپ ٹاؤن :جنوبی افریقہ میں سائنس دانوں نے دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت کر لی ہے جو تقریباً 60 ہزار سال پرانے ہیں۔ اس دریافت سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدیم انسان شکار کے لیے نہ صرف تیر کمان استعمال کرتے تھے بلکہ زہریلے پودوں کے استعمال کا علم بھی رکھتے تھے۔
عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقہ اور سویڈن کے ماہرین پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم نے پتھر کے زمانے سے تعلق رکھنے والے تیروں کی نوکوں پر زہریلے مادے کے واضح آثار دریافت کیے ہیں۔ یہ آثار جنوبی افریقہ کے ایک زہریلے پودے ’’جفبول‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں، جسے مقامی زبان میں زہریلا پیاز بھی کہا جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ تیر کوازولو ناٹل کے علاقے میں واقع ایک قدیم چٹانی غار سے ملے ہیں، جہاں 60 ہزار سال پہلے انسان آباد تھے۔ جدید سائنسی آلات کے ذریعے کیے گئے کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان تیروں پر موجود زہر انتہائی طاقتور تھا جو شکار کو جلد ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دور کے انسان قدرتی پودوں کی خصوصیات سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ کس پودے کا زہر کس طرح شکار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تیر اور کمان کی ایجاد انسانوں نے پہلے کے اندازوں سے کہیں پہلے کر لی تھی۔
سٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر سوین اساکسن نے کہا کہ دنیا کے قدیم ترین تیر کے زہر کی شناخت ایک مشکل مگر اہم سائنسی کامیابی ہے، جو انسانی ذہانت اور علم کے ارتقا کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کی جوہانسبرگ یونیورسٹی کی پروفیسر مارلیز لومبارڈ نے کہا کہ یہ دریافت اس بات کا براہِ راست ثبوت ہے کہ قدیم انسان شکار کو مؤثر بنانے کے لیے فطرت کے وسائل کا شعوری استعمال کرتے تھے۔
ماہرین نے بتایا کہ یہی زہریلا پودا آج بھی بعض مقامی شکاری استعمال کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ علم ہزاروں سال سے نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ میں شائع کی گئی ہے، جسے ماہرین انسانی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔