بسنت، ایئر پورٹ کے اطراف لیزرلائٹ پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لاہور (نیوزڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب نے بسنت کے دنوں میں ائیر پورٹ کے اطراف میں لیزرلائٹ ، بیم لائٹ ،گھومنے والی پراجیکٹرلائٹ پر پابندی لگادی، فضا کو متاثر کرنے والی لائٹس کے فروخت اور استعمال پردفعہ 144 نافذ کردی گئی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے 6، 7 اور 8 فروری کو ایئرپورٹ اور اطراف میں لیزرلائٹ کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ لیزرلائٹ کے استعمال پردفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ائیرپورٹ کے اطراف میں لیزرلائٹ ، بیم لائٹ ،گھومنے والی پراجیکٹر کی لائیٹ اورآسمان کومتاثرکرنے والی لائٹس پرپابندی ہوگی،ائیر پورٹ کے گرد 5 کلو میٹرکی حدود میں پابندی کا اطلاق ہوگا۔
ہوائی اڈوں کے اردگرد لیزرلائٹس کی فروخت اور استعمال کو 3 ماہ کے لئے بند کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق لیزرلائٹس سے جہازوں کی پروازاورلینڈنگ کے دوران خطرات لاحق ہوتے ہیں،لیزربیم پائلٹس کی بینائی متاثر ہوسکتی ہے،لیزر لائیٹس سے ہوائی حادثات کا خدشات کے پیش نظر پابندی لگائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔