روس، یوکرین اور امریکا کے سہ فریقی مذاکرات مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-01-13
ماسکو(مانیٹر نگ ڈ یسک ) کریملن نے روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے مؤخر ہونے کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں فریقین کے شیڈول میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات کو نئی تاریخ پر منتقل کیا گیا۔کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق یہ مذاکرات اتوار کو ہونے تھے تاہم اب یہ ملاقات بدھ اور جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہوگی جبکہ مذاکرات کے انعقاد کی اب باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ یہ مذاکرات 4 اور 5 فروری کو ہوں گے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازعات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں جبکہ روس اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں نئے زمینی حقائق کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے، دوسری جانب یوکرینی قیادت کسی بھی قسم کی علاقائی رعایت کو مسترد کرتی رہی ہے۔روس کا مؤقف ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو اپنے اہداف کے حصول کے لیے دیگر راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں تاہم ماسکو اب بھی سیاسی حل کو ترجیح دینے کی بات کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔