ایمان مزاری سے ملاقات نہ ہونے پر شیریں مزاری عدالت پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-10
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) ایمان مزاری سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں۔ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کے معاملے پر سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں انہوں نے درخواست دائر کرنے کے لیے اپنی بائیومیٹرک بھی کروائی۔ شیریں مزاری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ کل بیٹی اور داماد سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئی تھیں تاہم ملاقات کا مقررہ دن ہونے کے باوجود انہیں اجازت نہیں دی گئی، جیل قانون کے مطابق ملاقاتوں کے حوالے سے جو حق حاصل ہے، اسی بنیاد پر انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن فائل کی ہے۔درخواست میں شیریں مزاری نے اپیل کی کہ بنیادی استدعا یہی ہے کہ جیل قانون کے مطابق ملاقات کا جو حق ہے وہ فراہم کیا جائے، وہ ایک ماں ہیں اور بیٹی سے ملنا چاہتی ہیں، اسی طرح داماد سے ملاقات کی خواہش رکھتی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں روکا جا رہا ہے۔شیریں مزاری کے مطابق انہوں نے متعلقہ حکام کو اپنے قوانین کا حوالہ دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے، آرٹیکل ون ذہنی اور جسمانی تشدد کی تشریح کرتا ہے جس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد سے ملاقات
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔