عمران خان کے کہنے پر انہیں پمز لے جایا گیا، وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-16
اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈ یسک) وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا پروسیجر اڈیالا جیل اسپتال میں ہو سکتا تھا لیکن عمران خان کے کہنے پر انہیں پروسیجر کے لیے پمز اسپتال لے جایا گیا۔سینیٹ اجلاس میں میں قائد حزب اختلاف علامہ راجاناصر عباس کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کا ان کی فیملی کو نہ بتاکر جرم کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کو بطور شہری اور قیدی ان کے حقوق سے کیوں محروم کیا گیا؟راجا عباس ناصر کا کہنا تھا عمران خان کی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے، آپ انھیں ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کروائیں،کیوں لاپروائی کر رہے ہیں۔سینیٹر علی ظفر نے کہا بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کو نقصان ہو سکتا ہے، پمز کی رپورٹ پر ہمارے ماہرین مطمئن نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان تک دو ماہرین کو رسائی دی جائے، سینیٹ پمز اسپتال کو بانی کی رپورٹ جاری کرنے کی ہدایت کرے تاکہ ہم اسے پبلک کریں۔وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کے آنکھ کی سرجری سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سینیٹ کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک ہے، ان کا پروسیجر کامیاب ہوا ہے۔وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ عمران خان کو آنکھ کی جو بیماری تھی اس میں انجیکشن لگتا ہے آپریشن نہیں ہوتا، انہیں کوئی مزید پیچیدگی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا علاج اڈیالہ جیل اسپتال میں ہو سکتا تھا لیکن عمران خان کے کہنے پر انہیں پمز اسپتال لیکر گئے، انہوں نے خود کہا امن و امان کا مسئلہ ہو سکتا ہے انھیں شام کو لے کرجائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی عمران خان عمران خان کی عمران خان کے کی ا نکھ ہو سکتا
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔