عوام12 فروری کو ووٹ دیکر فسطائی سیاست کا خاتمہ کریں،امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-23
ڈھاکا (صباح نیوز)جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں بدعنوانی، بھتا خوری، دہشت گردی، موروثی سیاست اور بینک لوٹنے والوں کے خلاف ریڈ کارڈ دکھایا جائے گا، اب بے ضابطگیوں اور ناانصافی پر مبنی سیاست مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔عوام12 فروری کو ووٹ دیکر فسطائی سیاست کا خاتمہ کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیرانی گنج، ڈھاکا میں انتخابی جلسے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے میں این سی پی کے مرکزی کنوینر محمد ناہد اسلام اور جاتیہ گنوتانترک پارٹی (جے اے جی پی اے) کے صدر راشد بھٹو خصوصی مہمان کے طور پر شریک تھے۔اپنے خطاب میں امیر جماعت اسلامی نے بی این پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت نے جولائی میں ’’نہیں‘‘ کہہ کر خود کو مشکلات میں ڈالا، لیکن عوامی دباؤ کے تحت آخرکار ’’ہاں‘‘ کہنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عوام ووٹ کے ذریعے درست قیادت کا انتخاب کریں گے۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے قتل و غارت، جبری گمشدگیوں اور خونریزی کی سیاست کی جبکہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر سب کو ساتھ لے کر ایک پْرامن بنگلا دیش تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی بوسیدہ سیاست، فسطائیت، آمریت اور کرپشن کو ریڈ کارڈ دکھانا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے نزدیک ہندو، مسلمان، بدھ مت اور عیسائی سب برابر ہیں اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ امیر جماعت نے کہا کہ اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے اور جولائی چارٹر پر عمل درآمد کے ذریعے ایک محفوظ اور منصفانہ بنگلا دیش بنانا ہوگا۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے اعلان کیا کہ اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو کیرانی گنج کو ماڈل ٹاؤن شپ میں تبدیل کیا جائے گا، اسے فرسٹ کلاس میونسپلٹی کا درجہ دے کر جدید اور منصوبہ بند شہری نظام کے تحت لایا جائے گا۔ انہوں نے تعلیم، صحت، مواصلات اور شہری سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کو ترجیح دینے کا بھی اعلان کیا۔انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 12 تاریخ کو ’’ہاں‘‘ میں ووٹ دے کر ملک کی آزادی اور خودمختاری کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ 11 جماعتی اتحاد کے تحت فسطائی سیاست کے خاتمے اور عوامی فلاح پر مبنی ریاستی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد جاری ہے۔خواتین پر تشدد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ ماؤں اور بہنوں کا احترام ہر شہری کی ذمے داری ہے، جب تک اپنی ماؤں اور بہنوں کا احترام نہیں کیا جائے گا، معاشرہ مہذب نہیں بن سکتا۔جلسے سے این سی پی کنوینر ناہد اسلام و دیگر رہنماؤں اور امیدواروں نے بھی خطاب کیا۔علاوہ ازیںچٹگرام پورٹ اتھارٹی اسکول اینڈ کالج گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے والوں کی شناخت ہو چکی ہے اور اب اس سائبر حملے کے پس پردہ اصل کرداروں کو بے نقاب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ ہیک کر کے خواتین کے خلاف نازیبا زبان اور توہین آمیز مواد پھیلایا گیا تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ آج مائیں اور بہنیں اپنی عزت و وقار کے تحفظ کی ضمانت صرف 11 جماعتی اتحاد کو سمجھتی ہیں۔ انہوں نے بی این پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ ’فیملی کارڈز‘ کے وعدے کرتی ہے اور دوسری جانب ماؤں اور بہنوں پر ہاتھ اٹھا کر ان کی عزت پامال کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے۔
ڈھاکا: امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن کیرانی گنج میں انتخابی جلسے سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کہا کہ ا بنگلا دیش کرتے ہوئے جائے گا
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ