منعم ظفر کیخلاف ایف آئی آر سے پیپلزپارٹی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا ‘سیف الدین
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-30
کراچی (اسٹاف رپورٹر)اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ کراچی و نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے سیاسی قیادت کے خلاف ایف آئی آر اور منتخب اراکین سٹی کونسل کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان و دیگر کے خلاف ایف آئی آر سے پیپلزپارٹی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا ہے،پیپلزپارٹی جمہوری روایات کی پامالی کی بدترین مثالیں قائم کررہی ہے،سندھ حکومت اپنے خلاف عوامی ردعمل پر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے، منعم ظفر خان کے خلاف تھانہ ٹیپو سلطان میں درج کی گئی ایف آئی آر اور تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر مبشر حافظ الحق اور یوسی چیئرمین طارق شمسی و ریاض اللہ کی غیرقانونی گرفتاری پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سندھ حکومت 2 دن قبل ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘کے لیے ٹریفک پلان جاری کرکے مارچ کے بعد ایف آئی آر درج کررہی ہے، پیپلزپارٹی ’’ونڈر بوائے‘‘پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج سے روکنا، گرفتاریاں اور آیف آئی آر سے ڈرانا پیپلزپارٹی کی ذہنی شکست کی علامت ہے۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے مزید کہاکہ میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد اراکین کونسل کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریوں کے ذریعے نشانہ بنانا مرتضیٰ وہاب کو نہیں بچاسکتے، اراکین سٹی کونسل مصطفی آفریدی، عتیق سواتی، سعد خان اور محمد فیضان کے گھر رات گئے گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے، اس سے قبل شاہ فیصل کے منتخب ٹاؤن چیئرمین کو غیرقانونی حراست میں لیا گیا، پیپلزپارٹی ایک مرتبہ پھر فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کی توہین کر رہی ہے، وڈیرہ مائنڈسیٹ کو اس صوبے سے ختم اور موجودہ سسٹم کو دفنانے کا وقت آگیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا ر کے خلاف
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔