ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے ویزوں پر کام روکنے کا فیصلہ چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں پر کام روکنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا گیا۔شہری حقوق کی تنظیموں نے نیویارک کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا، امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی امیگریشن بنیاد کو نقصان پہنچا رہی ہے، ویزا پالیسی روکنے کے لیے عدالتی حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امیگرنٹ ویزوں پر کام معطل کرنے کا فیصلہ غیر آئینی، امتیازی اور انسانی حقوق کے منافی ہے، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں، شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ویزا پالیسی پر عمل درآمد روکنے کے لیے فوری عدالتی حکم جاری کیا جائے۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف قانونی امیگریشن کے عمل کو متاثر کر رہا ہے بلکہ امریکا کی تاریخی امیگریشن پالیسیوں اور بین الاقوامی ذمے داریوں کے بھی خلاف ہے، عدالت میں کیس کی سماعت جلد متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔