بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا: روس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: روسی ایوانِ صدر کریملن نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کے حوالے سے اب تک کوئی سرکاری اطلاع یا باضابطہ مؤقف موصول نہیں ہوا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تحریری یا زبانی پیغام موصول نہیں ہوا، اور فی الحال روس کو بھارت کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا علم نہیں ہے، روس اور بھارت کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بدستور جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان ٹیرف میں نرمی پر اتفاق ہو گیا ہے، بھارتی مصنوعات پر عائد محصولات کم کر کے 18 فیصد کر دیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل بعض اشیاء پر 25 فیصد تک ’جوابی‘ ٹیرف لاگو تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو اور ٹیرف میں کمی پر شکریہ ادا تو کیا، لیکن روس سے تیل کی خریداری روکنے سے متعلق کسی وعدے یا فیصلے کا کوئی ذکر نہیں کیا، جس کے بعد اس دعوے پر شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔
یاد رہے کہ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں روسی تیل عالمی منڈی میں رعایتی نرخوں پر دستیاب رہا، جس سے بھارت سمیت کئی ممالک نے فائدہ اٹھایا۔ اسی تناظر میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو ماسکو کے لیے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ بن گیا۔
یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے اس آمدنی کے ذریعے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ روس کو حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدن کو روکا جا سکے۔ اس کے باوجود روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 2025 کے اواخر میں بھارت کے دورے کے دوران نئی دہلی کو تیل کی ’بلاتعطل فراہمی‘ کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، جسے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیل کی خریداری روکنے روسی تیل کی امریکی صدر کی جانب سے بھارت کی
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔