Jasarat News:
2026-06-02@23:21:58 GMT

اُف وہ 70 آدمی! اب کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-03-8

عمران خان کی ایک آنکھ مخمور ہوجانے کے صدمہ عظیم پر کچھ لکھنے کا مرحلہ درپیش تھا لیکن کوئی چٹکتا ہوا فقرہ، پھڑکتی ہوئی بات نہیں سوجھ رہی تھی۔ ایسے وقت ِ جاں سوز ہم غالب کو صدا لگاتے ہیں، مجال ہے کبھی جواب نہ آیا ہو، آج بھی ایسا ہی ہوا۔ غالب کے بے مثل اشعار میں سے ایک دستک دیتا آموجودہوا:

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
غالب یاد آئیں اور حضرت میر تقی میر یاد نہ آئیں! کیسے ممکن ہے؟
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں تیرے نین غزالاں سوں کہوں گا

پھر تولین ڈوری سے بندھ گئی۔ ناصر کا ظمی بھی دل میں اُترتے چلے آئے ۔

یوں نہ گزرے گی شب غم ناصر
اس کی آنکھوں کی کہانی چھیڑو

بات تو غالب سے بھی آگے بڑھ سکتی تھی مگر آنکھ سے ٹپکتے لہو نے معاملہ خراب کردیا۔ آنکھ سے لہو ٹپکنا تو درکنار عمران خان کی آنکھ میں ہلکی سی نمی دیکھنے کی حسرت میں ہی بعضوں کی زندگی خراب وخوار ہورہی ہے۔

جس دن سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

تشہیر کے معاملے میں عمران خان سدا کے خوش بخت ہیں۔ ان کی ذرہ سی بات بھی کوٹھوں چڑھ جاتی ہے۔ وہ ہمہ وقت اپنی ذات کے خمار میں رہتے ہیں۔ یہ خمار ہلکا سا ایک آنکھ میں اُتر آیا تو کون سی بڑی بات ہو گئی؟ کسی اور کی آنکھ ہوتی تو ہلکے سے ہتھیلی کی پشت سے رگڑتا، دوچار چھینٹے پانی کے ڈال کر مطمئن ہوجاتا۔ پچھلے وقتوں ایسے میں سرمہ بھی لگا لیا جاتا تھا۔ ہائے! سرمے سے کیا کیا یاد آگیا؟ عمران خان کا معاملہ نہ ہوتا تو پورا کالم سرمے، سرمے والوں اور سرمے والیوں پر تمام ہو جاتا۔

سرمے کا تل بنا کے رُخ لاجواب میں
نقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میں

مسئلہ چونکہ عمران خان کی آنکھ کا تھا جس سے انہوں نے کبھی کھیل کے میدان دیکھے تھے، کبھی حکومت کے خواب اور اب حالات کی دھند، اس لیے پانی کے چھینٹے، عرق گلاب اور سرمہ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آیا۔ بات سیدھی پمز اسپتال تک جا پہنچی۔ اسپتال کا عملہ سیاست اور میڈیا ایک ساتھ متحرک ہوگئے۔ حکومت نے نہ جانے کیوں یہ آپریشن خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔ ثابت ہوا عمران خان پرانے نشانہ باز ہیں۔ ایک آنکھ سے بھی حکومت پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگا سکتے ہیں۔

بات آنکھ کے آپریشن تک پہنچی اس کے ساتھ ہی عمران خان کے چاہنے والوں کی اڈیالہ کے باہر عمران سیریز بھی شروع ہوگئی۔ ڈی چوک سے ریلی نکالنے کے دعوے سے کہانی کا آغاز ہوا۔ ایک اعصاب زدہ چہرہ اسکرینوں پر سامنے آیا کہ ’’آج ہم جو کریں گے وہ دیکھنے کے لائق ہوگا۔ ساری قوم آج دیکھے گی یہاںہم کیا کررہے ہیں‘‘ اس کے بعد بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سلمان اکرم راجا بپھرے ہوئے سامنے آئے ’’خان صاحب کو کال کوٹھڑی میں ڈال کر ان کے خاندان سے جدا کردینا، ان کے معالجین سے جدا کردینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ آپ کے سامنے بڑی تعداد میں پارلمنٹرینز آج یہاں اڈیالہ کے باہر موجود ہیں تو ہم یہاں پوری رات دھرنا دیں گے۔ پورے پاکستان کے پارلمنٹرینز کو، ایم پی ایز کو، ایم این ایز کو، سینیٹرز کو، ہم پکار رہے ہیں۔ وہ سب یہاں آئیں گے۔ ہمارا ساتھ دیں گے‘‘۔

کیسے ممکن تھا کہ سلمان اکرم راجا بولیں اور وزیراعلیٰ پختون خوا سہیل آفریدی چپ رہیں۔ وہ یوں گویا ہوئے ’’یہ ہمارے لیڈر کی زندگی کا ایشو ہے۔ اس کو ہم نارملائز بالکل نہیں ہونے دیں گے۔ پوری قوم الرٹ رہے۔ ان شاء اللہ وتعالیٰ آج پوری رات ہم یہاں گزاریں گے‘‘ ان افراد کی گرمئی گفتار سے بھی بات مکمل نہ ہوتی اگر مینا خان آفریدی حصہ نہ ڈالتے ’’ہم آئے ہوئے ہیں، چیف منسٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں بیٹھیں ہیں ہم نے ان کو بتایا ہے آپ کو ہماری ملاقات کرانی ہے، کسی بھی حالت میں کرانی ہے ورنہ ہم یہاں پر ہیں ان شاء اللہ وتعالیٰ۔ ہم یہاں موجود ہیں۔ لاسٹ ٹائم بھی جب خاں صاحب کی صحت کا مسئلہ تھا ہم یہاں موجود تھے اس دفعہ بھی ہم یہاں موجود ہیں۔ ہم کہیں جانے نہیں لگے‘‘۔

اڈیالہ جیل کے باہر ان سب حضرات کی سرگرمیوں پر مزید بات ہو اس سے پہلے ایک لطیفہ سن لیجیے: ایک شخص ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے گیا۔ ڈاکٹر ان کی 70 سالہ عمر اور تندرستی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بولا: آپ کی اچھی صحت کا راز کیا ہے؟ وہ شخص بولا ’’میں سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھتا ہوں، یوگا کرتا ہوں اور پھر پراٹھے، انڈوں کا آملیٹ اور فروٹ کھاتا ہوں۔ شاید یہی میری صحت کا راز ہو‘‘، ڈاکٹر بولا ’’ٹھیک ہے، کیا میں پو چھ سکتا ہوں آپ کے والد کا انتقال کس عمر میں ہوا؟‘‘، وہ شخص بولا ’’آپ سے کس نے کہا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر حیرت سے ’’آپ کی عمر70 سال ہے اور اب تک آپ کے والد زندہ ہیں تو ان کی عمر کتنی ہے‘‘۔ آدمی: ’’وہ 92 سال کے ہیں اور آج صبح میرے ساتھ یو گا کرنے کے بعد انہوں نے دو گلاس دودھ پیے، پراٹھے، انڈوں کا آملیٹ اور فروٹ سے ناشتہ کیا‘‘۔ ڈاکٹر: کمال ہے، لگتا ہے آپ کی فیملی کی جینز میں لمبی عمر ہے۔ تو جب آپ کے دادا کی وفات ہوئی تو آپ کے والد کی عمر کتنی تھی؟؟ آدمی: ارے آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ اب آپ میرے دادا کو بھی مارے دے رہے ہیں؟؟ ڈاکٹر حیرت سے: آپ کی عمر 70 سال ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آپ کے دادا اب بھی زندہ ہیں۔ ان کی عمر کیا ہے؟ آدمی: ’’ان کی عمر 120 سال ہے‘‘۔ ڈاکٹر: مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے بھی آج صبح آپ کے ساتھ یوگا کی ہوگی اور ہیوی ناشتہ کیا ہوگا؟؟ آدمی: ارے نہیں ڈاکٹر صاحب، دادا آج صبح نہیں جاسکے۔ آج ان کے گھر بیٹا ہوا ہے۔ وہ دادی کی نگہداشت کررہے ہیں۔

اب ڈاکٹر باقاعدگی سے یوگا کررہا ہے۔ ناشتے میں انڈے پراٹھے کھا رہا ہے اور اس کا کلینک بند ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈران کی عمران خان کی رہائی کے باب میں سرگرمیاں دیکھتے ہیں تو ہم بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ الٰہی! یہ لوگ اپنی روزی روٹی کا بندوبست کب کرتے ہیں، اپنے دفتروں میں کب جاتے ہیں؟ کیا ان کے دفاتر بھی بند ہیں؟ ایک بات بتانا ہم بھول گئے۔ ان رہنمایان کرام کی سرگرمیوں کے نتیجے میں اس رات اڈیالہ کے باہر ہزاروں افراد کا جم غفیر عمران خان کی صحت اور رہائی کے لیے پر جوش نعرے لگا رہا تھا اگر ہزاروں افراد سے مراد 70 آدمی ہوں۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمران خان کی ان کی عمر کی ا نکھ کے باہر ہم یہاں رہے ہیں

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف