Jasarat News:
2026-07-24@07:35:34 GMT

اُف وہ 70 آدمی! اب کیا ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-03-8

عمران خان کی ایک آنکھ مخمور ہوجانے کے صدمہ عظیم پر کچھ لکھنے کا مرحلہ درپیش تھا لیکن کوئی چٹکتا ہوا فقرہ، پھڑکتی ہوئی بات نہیں سوجھ رہی تھی۔ ایسے وقت ِ جاں سوز ہم غالب کو صدا لگاتے ہیں، مجال ہے کبھی جواب نہ آیا ہو، آج بھی ایسا ہی ہوا۔ غالب کے بے مثل اشعار میں سے ایک دستک دیتا آموجودہوا:

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
غالب یاد آئیں اور حضرت میر تقی میر یاد نہ آئیں! کیسے ممکن ہے؟
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں تیرے نین غزالاں سوں کہوں گا

پھر تولین ڈوری سے بندھ گئی۔ ناصر کا ظمی بھی دل میں اُترتے چلے آئے ۔

یوں نہ گزرے گی شب غم ناصر
اس کی آنکھوں کی کہانی چھیڑو

بات تو غالب سے بھی آگے بڑھ سکتی تھی مگر آنکھ سے ٹپکتے لہو نے معاملہ خراب کردیا۔ آنکھ سے لہو ٹپکنا تو درکنار عمران خان کی آنکھ میں ہلکی سی نمی دیکھنے کی حسرت میں ہی بعضوں کی زندگی خراب وخوار ہورہی ہے۔

جس دن سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

تشہیر کے معاملے میں عمران خان سدا کے خوش بخت ہیں۔ ان کی ذرہ سی بات بھی کوٹھوں چڑھ جاتی ہے۔ وہ ہمہ وقت اپنی ذات کے خمار میں رہتے ہیں۔ یہ خمار ہلکا سا ایک آنکھ میں اُتر آیا تو کون سی بڑی بات ہو گئی؟ کسی اور کی آنکھ ہوتی تو ہلکے سے ہتھیلی کی پشت سے رگڑتا، دوچار چھینٹے پانی کے ڈال کر مطمئن ہوجاتا۔ پچھلے وقتوں ایسے میں سرمہ بھی لگا لیا جاتا تھا۔ ہائے! سرمے سے کیا کیا یاد آگیا؟ عمران خان کا معاملہ نہ ہوتا تو پورا کالم سرمے، سرمے والوں اور سرمے والیوں پر تمام ہو جاتا۔

سرمے کا تل بنا کے رُخ لاجواب میں
نقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میں

مسئلہ چونکہ عمران خان کی آنکھ کا تھا جس سے انہوں نے کبھی کھیل کے میدان دیکھے تھے، کبھی حکومت کے خواب اور اب حالات کی دھند، اس لیے پانی کے چھینٹے، عرق گلاب اور سرمہ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آیا۔ بات سیدھی پمز اسپتال تک جا پہنچی۔ اسپتال کا عملہ سیاست اور میڈیا ایک ساتھ متحرک ہوگئے۔ حکومت نے نہ جانے کیوں یہ آپریشن خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔ ثابت ہوا عمران خان پرانے نشانہ باز ہیں۔ ایک آنکھ سے بھی حکومت پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگا سکتے ہیں۔

بات آنکھ کے آپریشن تک پہنچی اس کے ساتھ ہی عمران خان کے چاہنے والوں کی اڈیالہ کے باہر عمران سیریز بھی شروع ہوگئی۔ ڈی چوک سے ریلی نکالنے کے دعوے سے کہانی کا آغاز ہوا۔ ایک اعصاب زدہ چہرہ اسکرینوں پر سامنے آیا کہ ’’آج ہم جو کریں گے وہ دیکھنے کے لائق ہوگا۔ ساری قوم آج دیکھے گی یہاںہم کیا کررہے ہیں‘‘ اس کے بعد بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سلمان اکرم راجا بپھرے ہوئے سامنے آئے ’’خان صاحب کو کال کوٹھڑی میں ڈال کر ان کے خاندان سے جدا کردینا، ان کے معالجین سے جدا کردینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ آپ کے سامنے بڑی تعداد میں پارلمنٹرینز آج یہاں اڈیالہ کے باہر موجود ہیں تو ہم یہاں پوری رات دھرنا دیں گے۔ پورے پاکستان کے پارلمنٹرینز کو، ایم پی ایز کو، ایم این ایز کو، سینیٹرز کو، ہم پکار رہے ہیں۔ وہ سب یہاں آئیں گے۔ ہمارا ساتھ دیں گے‘‘۔

کیسے ممکن تھا کہ سلمان اکرم راجا بولیں اور وزیراعلیٰ پختون خوا سہیل آفریدی چپ رہیں۔ وہ یوں گویا ہوئے ’’یہ ہمارے لیڈر کی زندگی کا ایشو ہے۔ اس کو ہم نارملائز بالکل نہیں ہونے دیں گے۔ پوری قوم الرٹ رہے۔ ان شاء اللہ وتعالیٰ آج پوری رات ہم یہاں گزاریں گے‘‘ ان افراد کی گرمئی گفتار سے بھی بات مکمل نہ ہوتی اگر مینا خان آفریدی حصہ نہ ڈالتے ’’ہم آئے ہوئے ہیں، چیف منسٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں بیٹھیں ہیں ہم نے ان کو بتایا ہے آپ کو ہماری ملاقات کرانی ہے، کسی بھی حالت میں کرانی ہے ورنہ ہم یہاں پر ہیں ان شاء اللہ وتعالیٰ۔ ہم یہاں موجود ہیں۔ لاسٹ ٹائم بھی جب خاں صاحب کی صحت کا مسئلہ تھا ہم یہاں موجود تھے اس دفعہ بھی ہم یہاں موجود ہیں۔ ہم کہیں جانے نہیں لگے‘‘۔

اڈیالہ جیل کے باہر ان سب حضرات کی سرگرمیوں پر مزید بات ہو اس سے پہلے ایک لطیفہ سن لیجیے: ایک شخص ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے گیا۔ ڈاکٹر ان کی 70 سالہ عمر اور تندرستی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بولا: آپ کی اچھی صحت کا راز کیا ہے؟ وہ شخص بولا ’’میں سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھتا ہوں، یوگا کرتا ہوں اور پھر پراٹھے، انڈوں کا آملیٹ اور فروٹ کھاتا ہوں۔ شاید یہی میری صحت کا راز ہو‘‘، ڈاکٹر بولا ’’ٹھیک ہے، کیا میں پو چھ سکتا ہوں آپ کے والد کا انتقال کس عمر میں ہوا؟‘‘، وہ شخص بولا ’’آپ سے کس نے کہا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر حیرت سے ’’آپ کی عمر70 سال ہے اور اب تک آپ کے والد زندہ ہیں تو ان کی عمر کتنی ہے‘‘۔ آدمی: ’’وہ 92 سال کے ہیں اور آج صبح میرے ساتھ یو گا کرنے کے بعد انہوں نے دو گلاس دودھ پیے، پراٹھے، انڈوں کا آملیٹ اور فروٹ سے ناشتہ کیا‘‘۔ ڈاکٹر: کمال ہے، لگتا ہے آپ کی فیملی کی جینز میں لمبی عمر ہے۔ تو جب آپ کے دادا کی وفات ہوئی تو آپ کے والد کی عمر کتنی تھی؟؟ آدمی: ارے آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ اب آپ میرے دادا کو بھی مارے دے رہے ہیں؟؟ ڈاکٹر حیرت سے: آپ کی عمر 70 سال ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آپ کے دادا اب بھی زندہ ہیں۔ ان کی عمر کیا ہے؟ آدمی: ’’ان کی عمر 120 سال ہے‘‘۔ ڈاکٹر: مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے بھی آج صبح آپ کے ساتھ یوگا کی ہوگی اور ہیوی ناشتہ کیا ہوگا؟؟ آدمی: ارے نہیں ڈاکٹر صاحب، دادا آج صبح نہیں جاسکے۔ آج ان کے گھر بیٹا ہوا ہے۔ وہ دادی کی نگہداشت کررہے ہیں۔

اب ڈاکٹر باقاعدگی سے یوگا کررہا ہے۔ ناشتے میں انڈے پراٹھے کھا رہا ہے اور اس کا کلینک بند ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈران کی عمران خان کی رہائی کے باب میں سرگرمیاں دیکھتے ہیں تو ہم بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ الٰہی! یہ لوگ اپنی روزی روٹی کا بندوبست کب کرتے ہیں، اپنے دفتروں میں کب جاتے ہیں؟ کیا ان کے دفاتر بھی بند ہیں؟ ایک بات بتانا ہم بھول گئے۔ ان رہنمایان کرام کی سرگرمیوں کے نتیجے میں اس رات اڈیالہ کے باہر ہزاروں افراد کا جم غفیر عمران خان کی صحت اور رہائی کے لیے پر جوش نعرے لگا رہا تھا اگر ہزاروں افراد سے مراد 70 آدمی ہوں۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمران خان کی ان کی عمر کی ا نکھ کے باہر ہم یہاں رہے ہیں

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان