Jasarat News:
2026-06-02@20:46:14 GMT

فلسطین: جنگ بندی کے نام پر جنگ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فلسطین کے محصور ساحلی علاقے غزہ میں اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جس سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں ستر ہزار سے زاید معصوم اور بے گناہ فلسطینی شہادت سے ہمکنار ہوئے 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے امن معاہدے کے باوجود ہنوز یہاں اسرائیل کی بمباری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قطر، ترکیے اور مصر کی ثالثی میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں، جنگ بندی کے حوالے سے فریقین میں جن امور پر اتفاق ہوا تھا، ان پر حماس نے تو عمل درآمد کیا مگر معاہدے کے اوّل روز ہی سے اسرائیل نے اپنے طرزِ عمل سے یہ بات ثابت کی کہ وہ کسی طور جنگ بندی پر آمادہ نہیں۔ معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیل کے تمام زندہ اور مردہ قیدی رہا کردیے مگر اسرائیل نے غزہ پر نہ صرف یہ کہ بمباری بند نہیں کی بلکہ انسانی امداد پر مشتمل ٹرکوں کی غزہ داخلے پر رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ اسرائیل کی ڈھٹائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امن معاہدے کے چار ماہ بعد رفح کراسنگ کو محدود آمد و رفت کے لیے کھولا گیا ہے۔ اسرائیل کھلے عام معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور بد قسمتی سے معاہدے کے ثالث ممالک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کے ردعمل کے اظہار کے لیے تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی ابھی تک جاری ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کر کے 6 بچوں سمیت 31 فلسطینیوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنمائوں اور اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا ہے، تاہم ان دعوئوں کے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد نہیں پیش کیے گئے۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300 سے زاید مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ساری صورتحال کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کسی ملک، بین الاقوامی ادارے، حتیٰ کے معاہدے کے ثالثوں کو بھی اسرائیل کی مذمت کی توفیق نہیں ہوئی، المناکی کی انتہائی یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے آج بھی اسرائیل کی فوجی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکا نے اسرائیل کو 6.

5 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کی فروخت کی منظوری دی ہے، امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر کا فوجی سازو سامان فراہم کیا جائے گا۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازو سامان میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر اور 1.98 ارب ڈالرکی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔ اسرائیل کو نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس اور لاجسٹک سپورٹ سمیت دیگر فوجی سازو سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔ امریکا کے اس طرز عمل سے جنگ بندی کے معاہدے کا مستقل کیا ہوگا، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے جس کا آغاز جنوری سے ہوچکا ہے پر اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ غزہ کو اسلحے کے پاک کرکے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کردیا جائے گا، سوال یہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت کی عسکری مدد کے ساتھ معاہدے کے صرف ایک ہی فریق کو غیر مسلح کرنے کا کیا قانونی اور اخلاقی جواز ہے؟۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو جس قسم کے ہتھیار، ٹینکس اور جنگی گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں وہ اس امر کی حقیقت کا کھلا اظہار ہے کہ امریکی صدر یکطرفہ طور صرف حماس کو بے دست وپا کرنے کے خواہاں ہیں، غزہ میں امن اور بیس آف بورڈ محض دکھاوا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے کی کوشش ہے، اس طرز عمل کے ساتھ غزہ میں کسی طور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ خطے میں امن کے قیام کا واحد راستہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنا ہے مگر امریکی صدر اس پر آمادہ نہیں۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کا یہ کہنا بجا ہے کہ معاہدے کے باوجود حملے، امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں اور غزہ بورڈ آف پیس میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ثالثی ممالک امریکا کے دباؤ سے باہر نکلیں اور کھل کر اس منافقت اور دوہرے معیار کا پردہ چاک کریں اور ٹرمپ پر دو ٹوک انداز میں یہ واضح کریں کہ غزہ میں اگر وہ حقیقی امن کے قیام کے خواہاں ہیں تو انہیں اسرائیل کو فراہم کی جانے والی عسکری امداد اور فوجی سازو سامان کی ترسیل فوری طور پر روکنی ہوگی، ثالث ممالک کو امریکا پر یہ بات بھی واضح کرنی چاہیے کہ اس کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے ثالثوں کے کردار پر بھی انگلی اٹھ رہی ہے ایسی صورتحال میں اگر جنگ بندی کا معاہدہ سبوتاژ ہوا تو وہ کسی طور امریکا کی تائید و حمایت نہیں کریں گے اور فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت سے تحفظ فراہم کرنے کے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ اگر اس نوع کے اقدامات نہ کیے گئے تو امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کا نفاذ کسی طور ممکن نہیں ہوسکے گا۔

اداریہ سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا کی جانب سے ا فوجی سازو سامان امن معاہدے کے جنگ بندی کے امریکی صدر اسرائیل نے اسرائیل کی اسرائیل کو سے اسرائیل فراہم کی ہے کہ اس یہ ہے کہ

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان