Jasarat News:
2026-07-24@03:53:09 GMT

فلسطین: جنگ بندی کے نام پر جنگ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فلسطین کے محصور ساحلی علاقے غزہ میں اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جس سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں ستر ہزار سے زاید معصوم اور بے گناہ فلسطینی شہادت سے ہمکنار ہوئے 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے امن معاہدے کے باوجود ہنوز یہاں اسرائیل کی بمباری جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قطر، ترکیے اور مصر کی ثالثی میں جو معاہدہ ہوا تھا اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں، جنگ بندی کے حوالے سے فریقین میں جن امور پر اتفاق ہوا تھا، ان پر حماس نے تو عمل درآمد کیا مگر معاہدے کے اوّل روز ہی سے اسرائیل نے اپنے طرزِ عمل سے یہ بات ثابت کی کہ وہ کسی طور جنگ بندی پر آمادہ نہیں۔ معاہدے کے تحت حماس نے اسرائیل کے تمام زندہ اور مردہ قیدی رہا کردیے مگر اسرائیل نے غزہ پر نہ صرف یہ کہ بمباری بند نہیں کی بلکہ انسانی امداد پر مشتمل ٹرکوں کی غزہ داخلے پر رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ اسرائیل کی ڈھٹائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امن معاہدے کے چار ماہ بعد رفح کراسنگ کو محدود آمد و رفت کے لیے کھولا گیا ہے۔ اسرائیل کھلے عام معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور بد قسمتی سے معاہدے کے ثالث ممالک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کے ردعمل کے اظہار کے لیے تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائی ابھی تک جاری ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کر کے 6 بچوں سمیت 31 فلسطینیوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنمائوں اور اسلحہ کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا ہے، تاہم ان دعوئوں کے حق میں کسی قسم کے ٹھوس شواہد نہیں پیش کیے گئے۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300 سے زاید مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ساری صورتحال کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کسی ملک، بین الاقوامی ادارے، حتیٰ کے معاہدے کے ثالثوں کو بھی اسرائیل کی مذمت کی توفیق نہیں ہوئی، المناکی کی انتہائی یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے آج بھی اسرائیل کی فوجی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکا نے اسرائیل کو 6.

5 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کی فروخت کی منظوری دی ہے، امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر کا فوجی سازو سامان فراہم کیا جائے گا۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے فوجی سازو سامان میں 3.8 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر اور 1.98 ارب ڈالرکی لائٹ وہیکلز شامل ہیں۔ اسرائیل کو نیمر آرمڈ پرسنل کیریئر کے پاور پیکس اور لاجسٹک سپورٹ سمیت دیگر فوجی سازو سامان بھی فراہم کیا جائے گا۔ امریکا کے اس طرز عمل سے جنگ بندی کے معاہدے کا مستقل کیا ہوگا، اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے جس کا آغاز جنوری سے ہوچکا ہے پر اس عزم کا اعادہ کر رہے ہیں کہ غزہ کو اسلحے کے پاک کرکے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کردیا جائے گا، سوال یہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت کی عسکری مدد کے ساتھ معاہدے کے صرف ایک ہی فریق کو غیر مسلح کرنے کا کیا قانونی اور اخلاقی جواز ہے؟۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو جس قسم کے ہتھیار، ٹینکس اور جنگی گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں وہ اس امر کی حقیقت کا کھلا اظہار ہے کہ امریکی صدر یکطرفہ طور صرف حماس کو بے دست وپا کرنے کے خواہاں ہیں، غزہ میں امن اور بیس آف بورڈ محض دکھاوا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے کی کوشش ہے، اس طرز عمل کے ساتھ غزہ میں کسی طور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ خطے میں امن کے قیام کا واحد راستہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنا ہے مگر امریکی صدر اس پر آمادہ نہیں۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کا یہ کہنا بجا ہے کہ معاہدے کے باوجود حملے، امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں اور غزہ بورڈ آف پیس میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ثالثی ممالک امریکا کے دباؤ سے باہر نکلیں اور کھل کر اس منافقت اور دوہرے معیار کا پردہ چاک کریں اور ٹرمپ پر دو ٹوک انداز میں یہ واضح کریں کہ غزہ میں اگر وہ حقیقی امن کے قیام کے خواہاں ہیں تو انہیں اسرائیل کو فراہم کی جانے والی عسکری امداد اور فوجی سازو سامان کی ترسیل فوری طور پر روکنی ہوگی، ثالث ممالک کو امریکا پر یہ بات بھی واضح کرنی چاہیے کہ اس کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے ثالثوں کے کردار پر بھی انگلی اٹھ رہی ہے ایسی صورتحال میں اگر جنگ بندی کا معاہدہ سبوتاژ ہوا تو وہ کسی طور امریکا کی تائید و حمایت نہیں کریں گے اور فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت سے تحفظ فراہم کرنے کے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ اگر اس نوع کے اقدامات نہ کیے گئے تو امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کا نفاذ کسی طور ممکن نہیں ہوسکے گا۔

اداریہ سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا کی جانب سے ا فوجی سازو سامان امن معاہدے کے جنگ بندی کے امریکی صدر اسرائیل نے اسرائیل کی اسرائیل کو سے اسرائیل فراہم کی ہے کہ اس یہ ہے کہ

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل