اساتذہ تنظیم کی جانب سے سالانہ ظہرانے کی تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی اساتذہ تنظیم (سائوٹا) کی جانب سے سالانہ ظہرانے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی مرکزی تقریب ڈاکٹر اے ایم شیخ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی تقریب کی صدارت وائس چانسلر سندھ زرعی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے یونیورسٹی کی مجموعی ترقی، درپیش مسائل کے حل، ملازمین کی پنشن کی ادائیگی، اساتذہ کے پروموشن کے عمل اور مستقبل میں اٹھائے جانے والے اہم اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ جامعہ کو تعلیمی و انتظامی لحاظ سے مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اساتذہ و ملازمین کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گاتقریب سے اساتذہ تنظیم سائوٹا کے صدر ڈاکٹر فہد نظیر کھوسو نے بھی خطاب کیا اور اساتذہ کو درپیش مسائل، فلاحی اقدامات اور تنظیم کے کردار پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر کی جانب سے اساتذہ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیاسائوٹا کے سیکریٹری ڈاکٹر جاوید احمد گاڈہی نے اپنے خطاب میں تنظیم کی سال بھر کی کارکردگی، اساتذہ کے حقوق کے تحفظ اور انتظامیہ کے ساتھ مثبت رابطے پر روشنی ڈالیاس موقع پر ڈاکٹر محمد یعقوب کوندھر، ڈاکٹر نذر کوریجو اور دیگر نے خطاب کیا، جبکہ تقریب کے اختتام پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ، رٹائرڈ پروفیسرز،و منتظمین میں شیلڈز تقسیم کی گئیں، جبکہ شرکاء کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔