اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کو صحت کے شعبے میں ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے، جہاں 2025 کے دوران ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک ہجرت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ گیلپ پاکستان کی ڈیجیٹل اینالیٹکس رپورٹ کے مطابق، سال 2025 میں تقریباً 3,800 سے 4,000 ڈاکٹرز نے باضابطہ طور پر پاکستان چھوڑا، جو اب تک ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔یہ تجزیہ بیورو آف ایمیگریشن (BOE) کے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جسے گیلپ پاکستان نے 3 فروری 2026 کو جاری کیا۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً تین دہائیوں تک پاکستان سے ڈاکٹرز کی ہجرت کی شرح محدود رہی اور سالانہ تعداد چند سو تک تھی، تاہم 2010 کے بعد اس رجحان میں نمایاں تبدیلی آئی اور پہلی بار ڈاکٹرز کی ہجرت ایک ہزار سے تجاوز کر گئی۔وسط 2010 کی دہائی تک یہ تعداد باقاعدگی سے 1,500 سے 2,000 کے درمیان رہی، جبکہ 2025 میں یہ اضافہ ایک وقتی جھٹکے کے بجائے ایک مستقل اور ساختی تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بنائی جائے، ہم نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں ،اسد قیصر

رپورٹ میں ڈاکٹروں کے ملک چھوڑنے کی متعدد وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں پاکستان میں کام کے نامناسب حالات، کیریئر میں ترقی کے محدود مواقع
سیکیورٹی خدشات، بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب اورصحت کے نظام پر سنگین اثرات شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان میں طبی تعلیم پر بھاری سرکاری سبسڈی دی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کی بڑے پیمانے پر ہجرت نہ صرف عوامی سرمایہ کاری کے ضیاع کا باعث بن رہی ہے بلکہ ملک کے صحت کے نظام کی صلاحیت اور مضبوطی کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

قائد اعظم اکادمی کا قائد کے 150ویں یوم پیدائش کے سلسلے میں اہم اجلاس ,ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کی بریفنگ, اہم فیصلے 

رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا پاکستان اپنے صحت کے نظام کے لیے ڈاکٹر تیار کر رہا ہے یا بتدریج دنیا کے لیے میڈیکل افرادی قوت فراہم کرنے والا ملک بنتا جا رہا ہے۔گیلپ پاکستان کے مطابق اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو ملک میں صحت کی سہولیات کا معیار متاثر ہوگا اور آنے والی نسلوں کے لیے ڈاکٹرز کی تربیت بھی مشکل ہو جائے گی۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت کو ڈاکٹروں کی ہجرت کے اسباب — یعنی دباؤ (push factors) اور بیرونی کشش (pull factors) — دونوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور جامع اقدامات کرنا ہوں گے۔

بسنت کے دنوں لیزر لائٹ کے استعمال پر پابندی ،محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 نافذ کردی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: گیلپ پاکستان ڈاکٹرز کی رپورٹ میں کے مطابق کے لیے صحت کے

پڑھیں:

پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔

عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔

اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا