پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے۔ او ورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)نے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (BCI)کے ویو28کے مطابق کاروباری اعتماد 11فیصد کے اضافے کے ساتھ 22فیصد مثبت ہوگیاہے۔ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے ملک کی مجموعی جی ڈی پی کے تقریباً 80فیصد نمائندگی کرنے والے کاروباری اداروں پر مشتمل ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق ملک کے کاروباری اداروں کاٹیکنالوجی اور جدّت کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہاہے اور او آئی سی سی آئی کے 43فیصدممبران پہلے ہی جینیریٹیو آرٹیفشل انٹیلیجنس(AI)ٹیکنالوجیزکو اپنا رہے ہیں اور 81فیصد ممبران کو امید ہے کہ مستقبل قریب میںAI اہم کاروباری امور سنبھال لے گی۔ سروے کے مطابق تقریباً ایک دہائی کے بعد خدمات کے شعبہ میں بہترین کارکردگی ظاہر ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔