طبی دہشت گردی اور مغربی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-03-5
میں اس سے قبل ’’روحانی دہشت گردی اور مغربی میڈیا‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھ چکا ہوں، جس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ کس طرح طاقتور بیانیے کمزور آوازوں کو دبا دیتے ہیں۔ آج جس موضوع پر قلم اٹھایا جا رہا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ سنگین اور تشویشناک ہے، اور وہ ہے ’’طبی دہشت گردی‘‘ ایک ایسی دہشت گردی جو بم اور بندوق سے نہیں بلکہ سفید کوٹ، اختیار اور اعتماد کی آڑ میں کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک تحقیق نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ وکٹ شائر پولیس اور اسکائی نیوز کی رپورٹس کے مطابق، پانچ سو سے زائد افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانوی فوجی میڈیکل معائنوں کے دوران ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی یا غیر اخلاقی سلوک کیا گیا۔ یہ واقعات چند برسوں تک محدود نہیں بلکہ بعض شواہد کے مطابق 1970 کی دہائی سے 2016 تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ محض ایک قومی اسکینڈل ہے یا ایک عالمی مسئلے کی جھلک؟
حقیقت یہ ہے کہ طبی معائنے کے دوران جنسی بدسلوکی کوئی نیا یا کسی ایک ملک تک محدود رجحان نہیں۔ یہ طاقت، اختیار اور خاموشی کے اس گٹھ جوڑ سے جنم لیتی ہے جہاں مریض یا امیدوار خود کو کمزور اور معائنہ کرنے والے کو مکمل بااختیار محسوس کرتا ہے۔ جب اعتماد کو ہتھیار بنا لیا جائے تو یہ صرف اخلاقی انحطاط نہیں بلکہ کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سنگین فوجداری جرم بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ’’بدسلوکی‘‘ نہیں بلکہ طبی دہشت گردی کہنا زیادہ درست ہے۔ برطانیہ کا کیس اس لیے نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ وہاں میڈیا نسبتاً آزاد ہے، رپورٹنگ کے نظام میں شفافیت موجود ہے اور متاثرین کو کسی حد تک بولنے کا موقع میسر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعداد و شمار منظر ِ عام پر آئے اور ریاستی ادارے دفاعی پوزیشن میں نظر آئے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی مغربی میڈیا، جو دنیا کو انسانی حقوق کے اسباق پڑھاتا ہے، اکثر ایسے معاملات کو عالمی سطح پر اسی شدت سے اُجاگر نہیں کرتا جس شدت سے وہ مشرقی یا مسلم دنیا کے واقعات کو اچھالتا ہے۔ یہاں سوال جرم کا نہیں، بیانیے کے کنٹرول کا ہے۔ اگر امریکا کی طرف نظر دوڑائی جائے تو وہاں بھی فوج اور صحت کے نظام میں جنسی بدسلوکی کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ امریکی فوج کی اپنی رپورٹوں کے مطابق ہر سال ہزاروں شکایات درج ہوتی ہیں جن میں جنسی ہراسانی اور زیادتی شامل ہے۔ متعدد فوجی ڈاکٹروں اور طبی اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائیاں ہو چکی ہیں، بعض کو سزائیں بھی دی گئیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان معاملات کو اکثر انفرادی واقعات بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ادارہ جاتی ذمے داری پر کم ہی بات ہوتی ہے۔
یورپ کے دیگر ممالک، جیسے جرمنی، فرانس، اسپین اور اسکینڈے نیوین ریاستوں میں بھی فوجی اور سویلین اداروں میں جنسی بدسلوکی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر ان کیسز کی تعداد کم دکھائی دیتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق اصل وجہ کم رپورٹنگ، سماجی دباؤ اور ادارہ جاتی خاموشی ہے۔ بہت سے متاثرین خوف، شرم یا مستقبل کے خدشات کے باعث کبھی سامنے ہی نہیں آ پاتے۔ عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بھی اس الزام سے مبرا نہیں رہے۔ افریقا اور کیریبین میں تعینات بعض امن دستوں پر خواتین اور حتیٰ کہ بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ یہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب وردی، طاقت اور اختیار احتساب سے آزاد ہو جائیں تو وہ ’’تحفظ‘‘ کے بجائے ’’خوف‘‘ کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسلام اس پورے طرزِ عمل کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اسلام میں انسانی جسم کی حرمت، عزتِ نفس اور رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ: کسی انسان کو جسمانی یا ذہنی تکلیف دینا حرام ہے۔ طبی معائنہ ہو یا علاج، اسلام میں اس کے لیے واضح اخلاقی حدود مقرر ہیں۔ بلا ضرورت جسم کو چھونا، خلوت میں معائنہ کرنا، یا اعتماد کا غلط استعمال کرنا صریحاً حرام اور قابل ِ سزا جرم ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق طاقتور کو کمزور کے سامنے جواب دہ ہونا ہی اصل عدل ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ برطانیہ کا حالیہ انکشاف محض ایک اسکینڈل نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ جنسی بدسلوکی ایک عالمی مسئلہ ہے، اور اس کا حل بھی عالمی سطح پر شفافیت، احتساب، اسلامی و اخلاقی اقدار، اور متاثرین کی آواز کو مرکزیت دینے میں ہی پوشیدہ ہے۔ خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے، جبکہ سچ کا سامنا ہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنسی بدسلوکی نہیں بلکہ کے مطابق ہے کہ ا
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔