قومی اسمبلی: بلوچستان دہشت گردی کیخلاف، یوم یکجہتی کشمیر پر متفقہ قراردادیں، سینٹ میں 2 بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار +خبرنگار)قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر دہشت گردوں کے حملوں کیخلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔قرارداد میں کہا گیا دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دبائو اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے جو اسلامی پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔قرارداد وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی ، کہا گیاشہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں، ریاست سے ایسے عناصر کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔قرارداد میں کہا گیا متعدد واقعات میں بیرونی سرپرستی بالخصوص انڈیا کے کردار کے سنجیدہ خدشات پائے جاتے ہیں، بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری اور مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔مطالبہ کیا گیا کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کیخلاف فوری اور مربوط قومی رد عمل یقینی بنایا جائے جس میں سیاسی، سفارتی عسکری انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں شہدا اور زخمیوں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا گیا ۔قبل ازیں نور عالم خان نے کہا اس قرارداد میں خیبرپی کے کو بھی شامل کریں، دہشت گردی کے پی میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے، دہشت گردی کی ہر قسم کے خلاف بولنا ہوگا۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، قرار داد قواعد کو معطل کر کے پیش کی گئی۔ متن میں کہا گیا جموں و کشمیر عالمی تنازع ہے، اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے، ایوان برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر سے متعلق ہونیوالی بحث خوش آئند قرار دیتا ہے۔ ایوان بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بھارتی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بربریت اور بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 ء کے غیر قانونی یک طرفہ اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ بھارت 5 اگست 2019 ء کے اقدام کو فوری واپس لے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔ایوان نے قرار داد میں مئی 2025ء کے معرکہ حق کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر مثبت بیانات کا خیر مقدم بھی کیا۔دوسری جانب سینٹ نے نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000ء میں مزید ترمیم کا بل 2025 ء اور تحف مخبر و نگران کمشن کے قیام کا بل 2025 ء متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ پریذائیڈنگ افسر آغا شاہ زیب درانی کی زیر صدارت سینٹ اجلاس ہوا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا آج وقفہ سوالات و جوابات ہیں لیکن کوئی وفاقی وزیر ہائوس میں موجود نہیں ۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کسی وفاقی وزیر کو معطل کر دیں، آج آپ چیئر کی نشست پر ہیں، اختیارات کا استعمال کریں۔ سینیٹر طلحہٰ محمود کی جانب سے اجلاس وقت پر نہ شروع ہونے کی نشاندہی کی گئی۔علاوہ ازیں ایوان بالا کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے کہا کسی کوریاست میں اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں ، ہم نے احتجاج کیا مگر ایک پتہ بھی نہیں توڑا نہ کبھی دہشتگردی کی حمایت کی۔بلوچستان میں دہشتگرد ریڈ زون تک کیسے پہنچے ، اسکی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ راجہ ناصر عباس نے کہا بانی پی ٹی آئی کوغیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا ہے۔ عمران خان کی بیماری سے متعلق خاندان کو کیوں نہ بتایا گیا۔ان سے ملاقات پر پابندی ہے‘ علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ۔وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا بانی پی ٹی آئی کو انکی رضامندی پرپمزہسپتال میں علاج و معالجہ کی مکمل سہولیات فراہم کی گئیں ۔سابق وزیر اعظم سزا یافتہ قیدی ہیں، حکومت نے جیل میں بنیادی سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں، اگرکوئی مطمئن نہیں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ایوان میں وزیر مملکت داخلہ نے کہا نیکٹا کی آخری میٹنگ پیام امن کمیٹی کے نام سے ہوئی ۔نیشنل ایکشن پلان جوکہ اب نیشنل ایکشن پلان ٹو ہے جو پی ٹی آئی کے دور میں بنانا‘ اس پر ایوان میں بحث کی جائے کہ کس صوبے نے اس پر کتنا کام کیا ہے۔ خصوصی کمیٹی کو وزیر اعظم خود دیکھتے ہیں اسکی تفصیلات ایوان میں رکھی جائیں گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا پیغام امن کمیٹی میں بلا تفریق تمام مکاتب فکر کے علماء کو شامل کیا گیا ہے جو پورے ملک کے دورے کر رہی ہے تاکہ دہشت گردی خاتمے کیلئے بھر پور مہم چلائی جاسکے۔پی آئی ڈی میں بھی انسداد دہشتگردی میڈیا سیل بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ خیبر پی کے کی وزیر اعظم سے ملاقات خوشگوار اقدام ہے۔بعدازاں اجلاس جمعہ دن ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔