اسلام آباد (وقائع نگار +خبرنگار)قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر دہشت گردوں کے حملوں کیخلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا  دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔قرارداد میں کہا گیا دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دبائو اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے جو اسلامی پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔قرارداد  وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی ، کہا  گیاشہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں، ریاست سے ایسے عناصر کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔قرارداد میں کہا گیا متعدد واقعات میں بیرونی سرپرستی بالخصوص انڈیا کے کردار کے سنجیدہ خدشات پائے جاتے ہیں، بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری اور مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔مطالبہ کیا گیا کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کیخلاف فوری اور مربوط قومی رد عمل یقینی بنایا جائے جس میں سیاسی، سفارتی عسکری انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں شہدا اور زخمیوں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا گیا ۔قبل ازیں نور عالم خان نے کہا  اس قرارداد میں خیبرپی کے کو بھی شامل کریں، دہشت گردی کے پی میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے، دہشت گردی کی ہر قسم کے خلاف بولنا ہوگا۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی،   قرار داد قواعد کو معطل کر کے پیش کی گئی۔ متن میں کہا گیا جموں و کشمیر عالمی تنازع ہے، اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے، ایوان برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر سے متعلق ہونیوالی بحث خوش آئند قرار دیتا ہے۔ ایوان بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بھارتی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بربریت اور بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 ء کے غیر قانونی یک طرفہ اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ بھارت 5 اگست 2019 ء کے اقدام کو فوری واپس لے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔ایوان نے قرار داد میں مئی 2025ء کے معرکہ حق کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر مثبت بیانات کا خیر مقدم بھی کیا۔دوسری جانب سینٹ نے نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000ء  میں مزید ترمیم کا بل 2025 ء اور تحف مخبر و نگران کمشن کے قیام کا بل 2025 ء متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ پریذائیڈنگ افسر آغا شاہ زیب درانی کی زیر صدارت سینٹ اجلاس ہوا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا آج وقفہ سوالات و جوابات ہیں لیکن کوئی وفاقی وزیر ہائوس میں موجود نہیں ۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کسی وفاقی وزیر کو معطل کر دیں، آج آپ چیئر کی نشست پر ہیں، اختیارات کا استعمال کریں۔ سینیٹر طلحہٰ محمود کی جانب سے اجلاس وقت پر نہ شروع ہونے کی نشاندہی کی گئی۔علاوہ ازیں ایوان بالا کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے کہا کسی کوریاست میں اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں ، ہم نے احتجاج کیا مگر ایک پتہ بھی نہیں توڑا نہ کبھی دہشتگردی کی حمایت کی۔بلوچستان میں دہشتگرد ریڈ زون تک کیسے پہنچے ، اسکی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ راجہ ناصر عباس نے کہا بانی پی ٹی آئی کوغیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا ہے۔ عمران خان کی بیماری سے متعلق خاندان کو کیوں نہ بتایا گیا۔ان سے ملاقات پر پابندی ہے‘ علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ۔وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا بانی پی ٹی آئی کو انکی رضامندی پرپمزہسپتال میں علاج و معالجہ کی مکمل سہولیات فراہم کی گئیں ۔سابق وزیر اعظم سزا یافتہ قیدی ہیں، حکومت نے جیل میں بنیادی سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں، اگرکوئی مطمئن نہیں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ایوان میں وزیر مملکت داخلہ نے کہا نیکٹا کی آخری میٹنگ پیام امن کمیٹی کے نام سے ہوئی ۔نیشنل ایکشن پلان جوکہ اب نیشنل ایکشن پلان ٹو ہے جو پی ٹی آئی کے دور میں بنانا‘ اس پر ایوان میں بحث کی جائے کہ کس صوبے نے اس پر کتنا کام کیا ہے۔ خصوصی کمیٹی کو وزیر اعظم خود دیکھتے ہیں اسکی تفصیلات ایوان میں رکھی جائیں گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا پیغام امن کمیٹی میں بلا تفریق تمام مکاتب فکر کے علماء کو شامل کیا گیا ہے جو پورے ملک کے دورے کر رہی ہے تاکہ دہشت گردی خاتمے کیلئے بھر پور مہم چلائی جاسکے۔پی آئی ڈی میں بھی انسداد دہشتگردی میڈیا سیل بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ خیبر پی کے کی وزیر اعظم سے ملاقات خوشگوار اقدام ہے۔بعدازاں اجلاس جمعہ دن ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن