لاہور (نوائے وقت رپورٹ+نیوز رپورٹر) محکمہ تعلقات عامہ پنجاب نے پہلی ڈی ایس این جی اینڈ او بی وین لانچ کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈی ایس این جی اینڈ اوبی وین پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ڈی ایس این جی اینڈ اوبی وین کا معائنہ بھی کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈی ایس این جی اینڈ او بی وین پراجیکٹ کے سٹاف سے ملاقات کی۔ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ زاہد بخاری نے ڈی ایس این جی اینڈ او بی وین پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ڈی ایس این جی اینڈ او بی وین پنجاب بھر میں ہائی کوالٹی لائیو نیوز کوریج اور آؤٹ ڈور براڈ کاسٹنگ کے لئے استعمال ہوگی۔ ڈی جی پی آر میں ڈی ایس این جی اینڈ او بی وین کے لئے گراؤنڈسٹیشن فنکشنل کر دیا گیا ہے۔ ڈی ایس این جی اینڈ او بی وین پراجیکٹ میں اے آئی پاور ڈرون بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کی خوشیاں منانے کے لئے شاندار ردعمل دینے پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عوام سے بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ صرف لاہور میں 6, 7 اور8 فروری کو بسنت کی اجازت دی گئی ہے، باقی پنجاب میں پتنگ بازی پر بدستور پابندی ہے۔ بسنت پر ہماری توقع سے زیادہ رسپانس آیا، بسنت کے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد دیگر شہروں میں جائزہ لیا جائے گا۔ بلوچستان کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دعا ہے بلوچستان اور کے پی کے میں امن و سکون ہو۔ ہر روٹ پر ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، بائیک کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ بسنت کے تہوار پر عوام کو60ہزار سے زائد رائیڈز مہیا کریں گے۔ 419بسیں، میٹروبس،اورنج لائن ٹرین اور 6 ہزار یانگو رکشے پر سفر بالکل مفت ہو گا۔ گڈے کا سائز 40 ضرب 34 انچ ہوگا، پتنگ کا سائز 35 ضرب 30 انچ ہو گا۔ صرف نو دھاگوں پر مشتمل کاٹن کی ڈور کا پنا استعمال ہو گا، چرخی، دھاتی تار، تندی اور بلٹ پروف میٹریل وغیرہ منع ہے۔ ممنوعہ اشیاء  کے استعمال پر قانون حرکت میں آئے گا۔ لاہور میں ضرورت کے تحت باہر سے بھی پتنگیں اور ڈور منگوانے کی اجازت دی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن ایریاز میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ سیفٹی راڈ لگوا کر بائیک سوار نقصان اور جرمانے سے بچ سکتے ہیں۔ سیفٹی راڈ کی پابندی کا اطلاق موٹر سائیکل رکشے اور لوڈر رکشے پر بھی ہو گا۔ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لئے 90ہزار شورٹی بانڈ لیے گئے ہیں۔ ہر ایریا میں تھرمل ڈرون سرویلنس ہو رہی ہے، رات کو بھی نگرانی کریں گے۔ لاہور میں بوسیدہ اورخطرناک عمارتوں کا سروے مکمل ہو چکا ہے، سب سے فٹنس سرٹیفکیٹ لیے گئے ہیں۔کھلی چھت پرچار دیواری نہیں ہوگی تو سیفٹی کے لئے پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہر چھت کو چاروں طرف سے نائیلون کی رسی سے محفوظ بنایا جائے۔ پتنگیں لوٹنے والے بچوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ لاہور کی ہرتحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں 15رکنی کوئیک رسپانس ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں 51 ایمبولینس، 30 فائر بریگیڈ اور300 موٹرسائیکل ایمبولینس موجود ہوں گی۔ منسٹری آف واٹر اینڈ پاور سے اپیل کرتی ہوں کہ لٹکتے ہوئے تاروں کے گچھے ہٹانے کا انتظام کریں۔ بھاٹی گیٹ، موچی گیٹ، فورٹ روڈ، شیرانوالہ گریڈ سٹیشن پر حفاظتی اقدمات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ لاہور میں ہر ایک کو سیف سٹی کیمروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پتنگ بازی قوانین کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کال کر کے یا پورٹل پر وسل بلوئیر / مخبری یا اطلاع دینے کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ دھاتی ڈور بنتی، بکتی یا استعمال ہوتے دیکھیں تو فوراً کال کریں۔ انہوں نے کہا کہ سزا نہیں دینا چاہتے لیکن عوام کے تحفظ کے لئے قانون کا نفاذ ضروری ہے۔ ہر پتنگ اور ڈور کے پنے پر کیو آر کوڈ درج ہے، رولز کی خلاف ورزی پر پانچ سے سات سال قید، اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ لاہور کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہائی رسک زون میں 48، ییلو زون میں 32 اور گرین زون میں 20کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ داخلی اور خارجی راستوں کی ڈیجیٹل مائپنگ کی جا رہی ہے، 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور 2342 ٹریفک پولیس تعینات ہے۔ لبرٹی راؤنڈ اباؤٹ پر سب سے بڑی پتنگ اور لیزر لائٹس وغیر ہ کا شو ہو گا۔ حکومت پنجاب نے عوام کی حفاظت کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گٹر کے ڈھکن چوری نہیں ہونے چاہئیں، لگاتار کھلے مین ہول کور کرنے پر زور دیا۔ رات گئے لوگ گدھا گاڑیوں پر گٹروں کے ڈھکن چوری کرنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کر رہے ہیں، گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والے، بیچنے اور خریدنے والے کو ایک سے 10سال قید اور جرمانہ ہو گا۔ گٹر کا ڈھکن نہ ہونے سے کوئی ڈیتھ ہوئی تو ذمہ دار کو دس سال قید اور 30لاکھ جرمانہ ہو گا۔ عوام کو بہتر تبدیلی مل رہی ہے، اب چھوٹے بیانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ پرفارمنس کے ساتھ ہیں۔ بنیان مرصوص میں لوگوں نے فتح کا جشن منایا، دلوں میں ملک کے لئے محبت ہے۔ بسنت میں اربوں کی معاشی سرگرمیاں بڑھیں، کائیٹ مینوفیکچرنگ، ہوٹل، ریسٹو رنٹ بک ہوچکے ہیں۔ کئی دہائیوں سے سن رہے تھے ملک نازک اور خطرناک حالات سے گزررہا ہے۔ اب ملک آگے بڑھ رہا ہے، پنجاب ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی ہوں، سب کے لئے آسانیاں اور سکھ چاہتی ہوں۔ نواز شریف کے دور میں بسنت زور و شور سے منائی جاتی تھی، انہوں نے بسنت تہوار بحال کرنے کا کہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور کے تین تین چکر لگا کر چلے گئے، کسی نے بات نہیں سنی، پختونوں کے علاقے میں بھی گئے کوئی باہر نہیں آیا۔ اب نیا سال ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں کو تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اب لوگ جلاؤ گھیراؤ کی کال پر کان نہیں دھرتے، لبرٹی چوک کبھی بد تہذیبی کا مرکز تھا، اب کلچرل سنٹر ہے۔ جیل کے باہر ضرور بیٹھیں مگر کے پی کے کے کروڑوں لوگوں کا بھی خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خوف و ہراس سے فائدہ صرف دشمن ملک ہی اٹھاتا ہے۔ لوگ روزگار اور پریشانیوں میں الجھے ہوئے ہیں، خوشی کا بھی وقت ملنا چاہیے۔ ہر گھر میں باغ نہیں ہوتا اس لیے ہر شہر میں فیملی پارک بنائے جارہے ہیں۔ کہتے تھے جو ہمارے ساتھ ہے وہ نیک ہے اور باقی سب چور اور ڈاکو ہیں۔  یہ لوگ املاک کو جلانا سیاست سمجھتے ہیں،گلی محلے میں منفی سوچ پھیلاکر عوام کو سٹریس کا شکار کیا گیا۔ لوگوں کو آگ لگانے، نشانہ بنانے اور آوازیں کسنے کا درس دیا گیا، اپنے بچے باہر بیٹھے تھے، دوسروں کے بچوں کو توڑ پھوڑ سکھائی۔ ہر وقت امن وامان اور برے حالات کا رونا رویا جائے تو ملک دشمن خوش ہوں گے۔ لوگ سرمایہ کاری کے لئے آنا چاہتے ہیں، ہمیں مثبت تصویر پیش کرنی چاہیے۔ پنجاب کا ہر شہر سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی وجہ سے سیف سٹی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوبر چلانے والی بچی نے کہا اتنے محفوظ ماحول کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، یہ میرے لیے میڈل ہے۔ مریم نواز نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بس اور رکشے کے تصادم سے 7 افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سوگوار خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے لاہور میں پتنگ بازی کی اجازت گئے ہیں کے لئے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب