لا اینڈ آرڈرکا نفاذ میری ترجیح ہے: آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لاہور: (نیوزڈیسک) آئی جی پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے کہا ہے کہ میری ترجیحات لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنا ہے۔
عہدے کا چارج لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ میری ترجیح ہو گی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق جو کام شروع کئے گئے ہیں انکو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے کہا کہ میری ترجیحات پولیس کی ویلفیئر کے لیے اقدامات کرنا ہے، زیادہ اکھاڑ بچھاڑ پر یقین نہیں رکھتا۔
راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ جو اچھا کام کرے گا وہ میری ٹیم کا حصہ ہو گا، جو اچھا کام نہیں کرے گا اس کو تبدیل کیا جائے گا، پنجاب پولیس میں انشاءاللہ بہتری آئے گی۔
واضح رہے کہ راؤ عبدالکریم کو آئی جی پنجاب اور عثمان انور کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
پنجاب کے نئے آئی جی راؤ عبدالکریم کا تعلق 24 ویں کامن سے ہے، وہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ تعینات تھے، انہوں نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی تعینات رہ چکے ہیں۔
راؤ عبدالکریم ڈی آئی جی ٹیلی کمیونی کیشن کی ذمہ داریاں بھی نبھاچکے ہیں، وہ قصور اور جھنگ میں بطور ڈی پی او بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔
ڈاکٹر عثمان انور کو 24 جنوری 2023ء کو عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، انہوں نے بطور آئی جی پنجاب 3 سال سے زائد کا دورانیہ گزارا، وہ 24 فروری 2023 سے 2 فروری 2026 تک آئی جی پنجاب رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔