لاہور: (نیوزڈیسک) آئی جی پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے کہا ہے کہ میری ترجیحات لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنا ہے۔
عہدے کا چارج لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ میری ترجیح ہو گی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق جو کام شروع کئے گئے ہیں انکو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے کہا کہ میری ترجیحات پولیس کی ویلفیئر کے لیے اقدامات کرنا ہے، زیادہ اکھاڑ بچھاڑ پر یقین نہیں رکھتا۔

راؤ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ جو اچھا کام کرے گا وہ میری ٹیم کا حصہ ہو گا، جو اچھا کام نہیں کرے گا اس کو تبدیل کیا جائے گا، پنجاب پولیس میں انشاءاللہ بہتری آئے گی۔

واضح رہے کہ راؤ عبدالکریم کو آئی جی پنجاب اور عثمان انور کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

پنجاب کے نئے آئی جی راؤ عبدالکریم کا تعلق 24 ویں کامن سے ہے، وہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ تعینات تھے، انہوں نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی تعینات رہ چکے ہیں۔

راؤ عبدالکریم ڈی آئی جی ٹیلی کمیونی کیشن کی ذمہ داریاں بھی نبھاچکے ہیں، وہ قصور اور جھنگ میں بطور ڈی پی او بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر عثمان انور کو 24 جنوری 2023ء کو عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، انہوں نے بطور آئی جی پنجاب 3 سال سے زائد کا دورانیہ گزارا، وہ 24 فروری 2023 سے 2 فروری 2026 تک آئی جی پنجاب رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف