راؤ عبدالکریم آئی جی پنجاب اور عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
راؤ عبدالکریم بطور ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالا، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ راؤ عبدالکریم کا تعلق نواب شاہ سندھ سے ہے۔ راؤ عبدالکریم نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی۔ اسلام ٹائمز۔ ڈاکٹر عثمان انور کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کر دیا گیا، موجودہ ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار کو او ایس ڈی بنا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد اعلی سطح پر تقرر و تبادلوں کے نوٹیفیکیشن جاری ہو گئے۔ وفاقی حکومت نے راؤ عبدالکریم کی انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے عہدے پر تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔ راؤ عبدالکریم کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 24ویں کامن سے ہے۔ راؤ عبدالکریم کا شمار انتہائی پروفیشنل، منجھے ہوئے اور تجربہ کار بہترین افسران میں ہوتا ہے۔ راؤ عبدالکریم ان دنوں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
راؤ عبدالکریم بطور ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالا، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ راؤ عبدالکریم کا تعلق نواب شاہ سندھ سے ہے۔ راؤ عبدالکریم نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی۔ راؤ عبدالکریم نے اے ایس پی یو ٹی سکھر، ایس ڈی پی او سکھر سٹی، لطیف آباد حیدر آباد، چنیوٹ کے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔ راؤ عبدالکریم نے بطور ایس پی گوجرانوالا، لاہور اور شیخوپورہ خدمات انجام دیں۔ راؤ عبدالکریم بطور ڈی پی او میانوالی، قصور اور جھنگ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عبدالکریم کا عبدالکریم نے کے عہدے پر ڈی ا ئی جی ایس پی
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔