اسلام آباد میں حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ حکمتِ عملی کو تیزی سے جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف منتقل کر رہا ہے، جہاں سیاسی تعلقات کو براہِ راست معاشی فوائد، تجارتی راہداریوں اور علاقائی رابطہ کاری سے جوڑا جا رہا ہے۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف کا دورہ اسی وسیع تر پالیسی فریم ورک کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک فعال تجارتی پل اور ٹرانزٹ حب میں تبدیل کرنا ہے۔ ان روابط کا مرکز محض سفارتی خیرسگالی نہیں بلکہ ٹرانزٹ ٹریڈ، بندرگاہی رسائی، ریلوے رابطے، لاجسٹکس، سرمایہ کاری، اور تعلیمی و ثقافتی تعاون کے عملی ڈھانچے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف پہلے سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے

پاکستان اور قازقستان کن شعبوں میں مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کریں گے؟

قازقستان کے صدر کے دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتیں یعنی ایم او اوز طے پانے یا دستخط ہونے کی توقع ہے۔ پہلے ہی دورے سے قبل پاکستان اور قازقستان نے آٹھ ایم او یوز پر دستخط کیے ہیں جن کا محور اعلیٰ تعلیم، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی اور اسٹوڈنٹ ایکسچینجز، تعلیمی پروگرامز اور صلاحیت سازی ہے۔

اس کے علاوہ ریلوے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے شعبوں میں بھی ایم او یوز پر پیش رفت متوقع ہے، جس کا مقصد تجارت اور کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانا اور پاکستان قازقستان کے درمیان ریلوے تعاون اور نقل و حمل کے رابطوں کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ مفاہمتی یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، تحقیق، معاشی روابط، تجارتی مواصلات اور علاقائی کنیکٹیویٹی میں تعاون کو باقاعدہ سطح پر آگے بڑھانے میں مدد فراہم کریں گی۔

پاکستانی بندرگاہیں وسط ایشیائی تجارت کے لیے گیٹ وے

قازقستان کے ساتھ بات چیت میں ایک نمایاں نکتہ یہ ہے کہ خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کو سمندر تک مؤثر اور کم لاگت رسائی فراہم کی جائے۔ اسی تناظر میں کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے استعمال، لاجسٹکس تعاون، اور ٹرانزٹ سہولیات پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پاکستان اپنی بندرگاہوں کو وسطی ایشیائی تجارت کے لیے گیٹ وے کے طور پر پیش کر رہا ہے، جب کہ قازقستان کے لیے یہ عالمی منڈیوں تک رسائی کا عملی راستہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاک-قازقستان مشترکہ جنگی مشق ’دوستارم۔فائیو‘ کی اختتامی تقریب، اسپیشل فورسز کی شرکت

اس کے ساتھ دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، اور بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانے پر بھی زور دے رہے ہیں، جو تعلقات کو محض سیاسی سطح سے اٹھا کر ادارہ جاتی اور معاشی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اُزبکستان کے صدر کا متوقع دورہ

ازبکستان کے صدر شوکت میرزیایف کا جلد دورہ پاکستان متوقع ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا پالیسی کو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رکھ رہا بلکہ خطے کے ساتھ ایک مربوط حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ ازبکستان علاقائی کنیکٹیوٹی، ریلوے روابط اور صنعتی تعاون میں اہم حیثیت رکھتا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی اور ٹرانسپورٹ روابط بڑھانے پر بات چیت جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والے بڑے منصوبوں کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس طرح پاکستان کے راستے وسطی ایشیا کی برآمدات کے لیے متبادل اور نسبتاً مختصر راستے فراہم ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔

پاکستان کے وسط ایشیا کی طرف بڑھنے کی وجوہات

پاکستان کے وسطی ایشیا کی طرف بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں جغرافیائی محلِ وقوع سرِفہرست ہے۔ پاکستان بحیرۂ عرب تک رسائی رکھنے والا قدرتی سمندری راستہ فراہم کرتا ہے، جب کہ وسطی ایشیائی ریاستیں خشکی میں گھری ہوئی ہیں؛ اس جغرافیائی حقیقت کو معاشی فائدے میں بدلنا پالیسی کا بنیادی ہدف ہے۔

اس کے ساتھ پاکستان روایتی منڈیوں پر انحصار کم کر کے نئی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہا ہے، اور وسطی ایشیا توانائی، معدنیات اور زرعی وسائل کے باعث ایک پرکشش خطہ سمجھا جاتا ہے۔

کیا پاکستان وسط ایشیا تک رسائی کے متبادل راستے استعمال کرے گا؟

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے صرف روایتی افغان زمینی راستوں پر انحصار نہیں رکھنا چاہتا بلکہ متبادل اور کثیرالجہتی نیٹ ورک تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس میں علاقائی ریلوے اور ملٹی موڈ کارگو کوریڈورز کے ذریعے ایران اور آگے وسطی ایشیا تک رابطوں کے امکانات، قومی شاہراہوں اور مغربی روٹس کی اپگریڈیشن، اور بندرگاہی حکمتِ عملی شامل ہے۔

گوادر اور کراچی پورٹس کو علاقائی ٹرانزٹ ہب کے طور پر فروغ دینا اسی وسیع منصوبہ بندی کا حصہ ہے تاکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سمندری تجارت کم وقت اور کم لاگت میں ممکن ہو سکے۔ یوں پاکستان ایک ایسے نیٹ ورک کی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے جو اسے علاقائی لاجسٹک مرکز کے طور پر ابھار سکے۔

یہ بھیپڑھیے: پاکستان اور قازقستان کے مابین وفود کی سطح کے مذاکرات، ایکشن پلان پر دستخط

مجموعی طور پر قازقستان اور ازبکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط پاکستان کی اس سوچ کا عملی اظہار ہیں کہ خارجہ تعلقات کو اقتصادی ڈھانچوں، تجارتی راستوں، تعلیمی تعاون، اور علاقائی رابطہ کاری سے منسلک کیا جائے۔

اگر ٹرانزٹ، بندرگاہی رسائی، ریلوے روابط، تعلیمی اور تحقیقی ایم او یوز، اور تجارتی معاہدے مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتے ہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو نئی منڈیوں سے جوڑ سکے گا بلکہ خطے میں ایک اہم تجارتی، تعلیمی اور لاجسٹک گزرگاہ کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایم او یوز تجارت تعلقات قازقستان وسطی ایشیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم او یوز تعلقات قازقستان وسطی ایشیا وسطی ایشیائی قازقستان کے وسطی ایشیا ایم او یوز وسط ایشیا کے درمیان کر رہا ہے کے طور پر تک رسائی کے ساتھ کے لیے کے صدر کی طرف

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان