بلوچستان میں ظلم اور محرومی کا بیانیہ دہشت گردی کو چھپانے کیلیے بنایا جاتا ہے‘ طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ظلم اور محرومی کا بیانیہ دہشت گردی کو چھپانے کیلیے بنایا جاتا ہے،بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں لوٹ مار کر رہی ہیں، بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے ، باغی کے قریب 5 ارب ڈالرز مالیت کے منصوبہ جات پر کام شروع ہوا ہے،قومی اسمبلی میں بلوچستان میں دہشتگردی کارروائیوں کی مذمت اور عسکری اداروں کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی،کشمیریوں سے اظہاریکجہتی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بلوچستان واقعے پر بحث سمیٹ دی، طلال چودھری نے کہا کہ بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں لوٹ مار کر رہی ہیں، بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے ، باغی کے قریب 5 ارب ڈالرز مالیت کے منصوبہ جات پر کام شروع ہوا ہے ، پاکستان ترقی کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بدامنی کا مقصد پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری کو روکنا ہے، بد امنی کا مقصد پاکستان کے اسٹریٹجک پارٹنر چین کو دور بھیجنا ہے، ظلم ذیادتی گمشدہ علاقوں اور محرومی کا بیانیہ دہشت گردی کو چھپانے کے لیے بنایا جاتاہے۔ طلال چودھری نے کہا کہ بلوچستان کو پنجاب سے این ایف سی کے تحت چالیس فیصد زیادہ حصہ ملتا ہے، بلوچستان میں 13 کیڈٹ کالجز ہیں 2 لاکھ آبادی والے شہروں میں ائرپورٹ ہیں، بلوچستان میں 321 ٹیکنیکل تعلیمی ادارے ہیں، بلوچستان میں 13 ہسپتال بنیادی صحت کے مراکز 757 اور 25000 سے زاید سڑکیں ہیں، این ایف سی کے تحت بلوچستان کو پنجاب اور سندھ سے فی کس کے حساب سے دو گنا سے زیادہ رقم ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ91 فیصد پیسے بلوچستان میں وفاق کی جانب سے دئیے جاتے ہیں، اگر حقوق کی جنگ ہے تو حملہ صرف اسکولز اور ہسپتالوں پر کیوں کیا جاتا ہے، بینک عوام کی سہولت کے لیے بنائے گئے ہیں، پلوں اور رابطہ سڑکوں کو کیوں اڑایا جاتا ہے، اسکول بینک اور کاروبار چل رہے ہوں تو محرومیوں کا بیانیہ کیسے بنے گا، پاکستان گمشدہ افراد کے اعتبار سے ترقیافتہ ممالک سے بہتر ہے، یورپ اور امریکہ میں پاکستان سے ذیادہ گمشدہ لوگ ہیں۔قومی اسمبلی میں بلوچستان میں دہشتگردی کارروائیوں کی مذمت اور عسکری اداروں کوخراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی واقعات کی شدید مذمت کرتا ہے، دہشت گرد کارروائیوں میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گردانہ کارروائیوں میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔ اس میں کہا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال زبردستی ذہنی دباؤ اور بلیک میننگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی پاکستانی اور بلوچ اقدار کی سراسر منافی ہے، ایوان سیکیورٹی فورسز قانون نافذ کرنے والے اداروں صوبائی حکومت بلوچستان اور سول انتظامیہ کے بروقت اور موثر اقدامات کو سراتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلال چودھری نے بلوچستان میں کا بیانیہ جاتا ہے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔