آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیلیے 13 ارب کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز، راولپنڈی کے توسیعی منصوبے کی 13 ارب روپے کی لاگت سے منظوری دیدی ہے۔
یہ منظوری نائب وزیراعظم اسحق ڈارکی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی کے اجلاس میں دی گئی،جہاں فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کیلیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کی سست روی کا شکار اسکیموں سے بچت شدہ رقوم استعمال کی جائیں گی۔
منصوبے کی مجموعی لاگت میں سے 6 ارب روپے غیر ملکی ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے،جبکہ 10.
جاری مالی سال کیلیے حکومت نے منصوبے کے تحت 50 ملین روپے مختص کیے ہیں،جبکہ حکام کے مطابق رواں سال 2 ارب روپے درکار ہونگے۔
ای سی این ای سی کو بتایا گیا کہ AFIC اس وقت اپنی استعداد سے کہیں زیادہ مریضوں کاعلاج کر رہا ہے اور وفاقی سطح پر دل کے امراض کے علاج کی سہولیات ناکافی ہیں، AFIC میں فوجی اور سویلین مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
قبل ازیں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے مالی مشکلات کے باعث سفارش کی تھی کہ منصوبہ پی ایس ڈی پی کے بجائے دیگر ذرائع سے مالی اعانت کے ذریعے مکمل کیا جائے تاہم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پی ایس ڈی پی کے اندر ہی وسائل کا بندوبست کریگی۔
اجلاس میں ای سی این ای سی نے وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام (2023-2027) کی بھی منظوری دی، جس کی لاگت 23.5 ارب روپے ہے۔
علاوہ ازیں ای سی این ای سی نے کراچی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی 178.5 ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت بھی منظورکی۔
سندھ حکومت منصوبہ ورلڈ بینک سے 550 ملین ڈالرزقرض لیکر مکمل کریگی، 21 کلومیٹرطویل کوریڈورکے 28 اسٹیشنزاور 256 بسیں شامل ہونگی، جوروزانہ 3 لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرینگی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل منصوبے کی ارب روپے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،