مہاجر ینِ جموں و کشمیر کیلئے رہائشی منصوبے پر کام جاری، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزدیسک )وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر حکومتِ پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مہاجر ینِ جموں و کشمیر ہمارے دل کے نہایت قریب ہیں اور ان کی تالیفِ قلب، بحالی اور باعزت آبادکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وفاقی وزیر امورِ کشمیر نے ایک بیان میں کہا کہ اسی سلسلے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تین ارب روپے کی لاگت سے 750 رہائشی گھروں کی تعمیر پر مشتمل پائلٹ پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے کے لیے حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے سرکاری زمین مہیا کی ہے، جبکہ جہاں سرکاری زمین محدود ہے وہاں قانونی طریقۂ کار کے تحت بذریعہ ایوارڈ زمین حاصل کی جا رہی ہے۔انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ مزید برآں، یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر حکومتِ پاکستان نے مہاجرینِ جموں و کشمیر (1989–90) کے لیے فی کس ماہانہ گزارہ الاؤنس پانچ ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیرِ اعظم پاکستان جناب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ گہری محبت، وابستگی اور غیر متزلزل یکجہتی کا مظہر ہے۔وفاقی وزیر امورِ کشمیر نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کی مکمل بحالی اور آبادکاری صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے۔ انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ حکومت، کشمیری عوام کے ازلی اور مسلمہ حق , حقِ خودارادیت کے حصول تک، ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔