نیب کی گزشتہ برس 62 کھرب، 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
نیب نے سال 2025 کی اپنی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کر دی۔
ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر،پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل امجد مجید اولکھ نے نیب کی کارکرگی پر ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (رٹائرڈ) نذیر احمد کی قیادت میں نیب نے 62 کھرب، 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی ہے، یہ نیب کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔
نیب نے سال 2025 میں 29 لاکھ، 80 ہزار ایکڑ سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگزار کرائی جس کی مجموعی مالیت تقریباً 59 کھرب، 80 ارب روپے ہے۔
سکھر میں 3,730 ارب، بلوچستان میں 1,374 ارب اور ملتان میں 653 ارب روپے کی زمین بحال کی گئی۔
نیب کی تاریخی کارروائی، سب سے بڑی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ کی ریکوری
سندھ لیبر ڈیپارٹمنٹ میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، نیب نے انکوائری شروع کر دی
ہا ئوسنگ سکیموں کے متاثرین کو بھی خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا گیا جس کے تحت 1لاکھ،15ہزار متاثرین کو 180ارب روپے منتقل کئے گئے۔
پہلی بار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.
اسٹیٹ لائف ہائوسنگ کے متاثرین کو 72.23 ارب روپے مالیت کے پلاٹ واپس دلائے گئے جبکہ ایڈن ہا ئوسنگ، الباری گروپ اور دیگر متاثرین کو اربوں روپے کی واپسی ممکن ہوئی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل متاثرین کو ارب روپے روپے کی
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔