لکی مروت میں پولیس کانسٹیبل اہل خانہ کے سامنے قتل، مسلح افراد نے گھر کو آگ لگادی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ڈی آئی خان:
لکی مروت میں پولیس کانسٹیبل کو گھر میں گھس کر فائرنگ سے قتل کردیا گیا جب کہ مسلح افراد نے گھر کو بھی آگ لگادی۔
پولیس کے مطابق واقعہ سرائے نورنگ کے گاؤں نصر خیل میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے رات گئے پولیس کانسٹیبل دستگیر کو اس کے گھر میں گھس کر اہل خانہ کے سامنے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور اچانک گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کانسٹیبل دستگیر موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔
مزید پڑھیںبنوں میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، دو افراد ہلاک
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزمان نے کانسٹیبل دستگیر کے گھر کو آگ بھی لگا دی، جس سے گھر کے اندر موجود سامان کو نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی اور شواہداکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کو گھیرے میں لیا۔
کانسٹیبل کی شہادت اور گھر کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جب کہ شہریوں میں خوف و ہراس بھی پھیل گیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش اورملزمان کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گھر کو
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔