Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:47:19 GMT

سیف الاسلام قذافی کے قتل کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

سیف الاسلام قذافی کے قتل کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟

لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تصدیق ان کے قریبی خاندانی ذرائع اور ان کے فرانسیسی وکیل مارسل سیکالڈی نے کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طویل عرصے سے اپنے والد کے جانشین سمجھے جانے والے 53 سالہ سیف الاسلام کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے 136 کلومیٹر (85 میل) جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں قتل کیا گیا۔

قذافی خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق 4 نقاب پوش حملہ آور منگل کی رات تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر 53 سالہ سیف الاسلام کو ان کی رہائش گاہ کے باغ میں گولیاں مار کر موقع سے فرار ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر مسلح افراد نے پہلے گھر کے سیکیورٹی کیمروں کو غیر فعال کیا اور پھر براہِ راست مسلح تصادم کے بعد انہیں گولی مار دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکیں، تاہم سیف الاسلام قذافی کے ایک قریبی ساتھی نے اسے واضح طور پر ایک قتل قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سیف الاسلام کے سیاسی مشیر اور 2020ء سے 2021ء تک ان کی سیاسی ٹیم کے رکن عبداللّٰہ عثمان نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان کی موت کی تصدیق کی۔

انہوں نے لکھا کہ ہم اللّٰہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، مجاہد سیف الاسلام قذافی اللّٰہ کی امان میں چلے گئے۔

لیبیا کے حکام نے ان کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا جبکہ عبداللّٰہ عثمان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے سیف الاسلام قذافی کی سیکیورٹی میں مسائل تھے۔

خیال رہے کہ 2011ء میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی سیف الاسلام قذافی لیبیا کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر موجود رہے۔

سیف الاسلام قذافی اگرچہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھے، تاہم ایک وقت میں وہ تیل سے مالا مال شمالی افریقی ملک میں اپنے والد کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک حکومت کی۔

انہوں نے 2021ء میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا، تاہم یہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیف الاسلام قذافی قذافی کے کے مطابق قتل کی

پڑھیں:

رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی

حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی