آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی پرچم والے جہاز کو گھیر لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ایران کے پاسداران انقلاب کی مسلح کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں امریکی پرچم والے جہاز کو گھیر لیا۔
میری ٹائم ذرائع کے مطابق ایرانی کشتیوں نے عمان کے شمال میں امریکی پرچم والے جہاز تک رسائی کی اور اسے رکنے کا کہا، لیکن جہاز نے رکے بغیر سفر جاری رکھا۔
میری ٹائم ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی مسلح کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو گھیر لیا۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی پرچم والا جہاز بغیر اجازت ایرانی پانیوں کی حدود میں داخل ہوا تھا، جو وارننگ ملنے کے بعد علاقے سے نکل گیا۔
امریکی سینٹ کام کے ترجمان نے آبنائے ہرمز واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور عملے کو ہراساں کیا۔
ترجمان سینٹ کام کے مطابق پاسداران انقلاب کی کشتیاں اور ایرانی ڈرون امریکی پرچم والے جہاز تک پہنچے، جنہوں نے جہاز کو قبضے میں لینے کی دھمکی بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی پرچم والے جہاز کو پاسداران انقلاب کشتیوں نے
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔