آبنائے ہرمز میں کشیدگی:ایران نے امریکی پرچم بردار جہاز کو روک لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک نیا واقعہ پیش آیا ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے ایک جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تھا، جس پر ایرانی کشتیوں نے وارننگ دی، بعد ازاں جہاز علاقہ چھوڑ کر نکل گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور عملے کو ہراساں کیا۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں اور ایرانی ڈرون جہاز کے قریب پہنچے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ صورتحال کے دوران امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔