آبنائے ہرمز میں کشیدگی:ایران نے امریکی پرچم بردار جہاز کو روک لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک نیا واقعہ پیش آیا ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے ایک جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تھا، جس پر ایرانی کشتیوں نے وارننگ دی، بعد ازاں جہاز علاقہ چھوڑ کر نکل گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور عملے کو ہراساں کیا۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں اور ایرانی ڈرون جہاز کے قریب پہنچے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ صورتحال کے دوران امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔