پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے ملتان سلطانز کے علاوہ تمام ٹیموں نے اپنے برقرار رکھے گئے کھلاڑیوں کی فہرست جاری کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عارضی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے زیر انتظام ملتان سلطانز کی ٹیم نے کسی کھلاڑی کو ریٹین نہیں کیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے علاوہ تمام فرنچائزز نے چار، جبکہ اسلام آباد نے تین کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے۔

نئی فرنچائزز سیالکوٹ اسٹالینز اور حیدرآباد 7 فروری تک اپنی ریٹینشنز کا اعلان کریں گی۔

دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز نے تین بار پی ایس ایل جیتنے والے واحد کپتان شاہین شاہ آفریدی کو پلاٹینم، عبداللہ شفیق کو ڈائمنڈ، سکندر رضا کو گولڈ اور محمد نعیم کو سلور کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ابرار احمد (پلاٹینم)، عثمان طارق (ڈائمنڈ)، حسن نواز (گولڈ) اور شامل حسین (ایمرجنگ) کو برقرار رکھا ہے۔

پشاور زلمی نے بابراعظم کو پلاٹینم، سفیان مقیم کو ڈائمنڈ، عبدالصمد کو گولڈ اور علی رضا کو ایمرجنگ کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے شاداب خان کو پلاٹینم، سلمان ارشاد کو گولڈ اور اینڈریز غوث کو سلور کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔

کراچی کنگز کی جانب سے حسن علی کو پلاٹینم، عباس آفریدی کو ڈائمنڈ، خوشدل شاہ کو گولڈ اور سعد بیگ کو ایمرجنگ کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: برقرار رکھا ہے کو گولڈ اور

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان