پی ایس ایل 11: فرنچائزز کی جانب سے ریٹین اور ریلیز کیے جانے والے کھلاڑیوں کی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز سمیت ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کی 6 فرنچائزز نے اپنے ریٹین شدہ کھلاڑیوں کی فہرست جاری کر دی ہے، جبکہ ملتان سلطانز نے اپنی گزشتہ اسکواڈ سے کسی بھی کھلاڑی کو برقرار نہیں رکھا۔
پی سی بی کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ کے علاوہ تمام فرنچائزز نے 4، 4 کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے، جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے 3 کھلاڑی ریٹین کیے ہیں۔ لیگ میں شامل ہونے والی 2 نئی فرنچائزز سیالکوٹ اسٹالینز اور حیدرآباد اپنی ریٹینشنز کا اعلان 7 فروری (ہفتہ) تک کریں گی۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل: حارث رؤف اور فخر زمان لاہور قلندرز کا حصہ نہیں رہے، شاہین آفریدی برقرار
لاہور قلندرز نے پی ایس ایل 3 مرتبہ جیتنے والے واحد کپتان شاہین شاہ آفریدی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے، جبکہ عبداللہ شفیق کو ڈائمنڈ کیٹیگری میں ریٹین کیا گیا ہے۔ زمبابوے کے آل راؤنڈر سکندر رضا گولڈ کیٹیگری میں ٹیم کا حصہ رہیں گے، جبکہ پی ایس ایل 10 کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی محمد نعیم کو سلور کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔
Six teams announce player retentions for HBL PSL 2026
Details here ➡️ https://t.
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) February 3, 2026
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پراسرار اسپنر ابرار احمد کو پلاٹینم، عثمان طارق کو ڈائمنڈ، پی ایس ایل 10 کے بہترین کھلاڑی حسن نواز کو گولڈ اور بائیں ہاتھ کے بلے باز شمیل حسین کو ایمرجنگ کیٹیگری میں ریٹین کیا ہے۔
پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے اور 100 میچز کھیلنے والے چند کھلاڑیوں میں شامل بابر اعظم کو 2017 کے چیمپئن پشاور زلمی نے پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ سفیان مقیم (ڈائمنڈ)، عبدالصمد (گولڈ) اور فاسٹ بولر علی رضا (ایمرجنگ) بھی زلمی کے ساتھ رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل کے بین الاقوامی میڈیا حقوق فروخت، نیا ریکارڈ قائم
اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کا فرنچائز کے ساتھ 9 سالہ سفر ایک دہائی میں داخل ہو گیا ہے، انہیں 3 مرتبہ کی چیمپئن ٹیم نے پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔ فاسٹ بولر سلمان ارشاد (گولڈ) اور امریکی وکٹ کیپر بیٹر اینڈریز گاؤس (سلور) دیگر ریٹین شدہ کھلاڑی ہیں۔
پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے کامیاب بولرز میں شامل حسن علی کو کراچی کنگز نے پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ محمد عباس آفریدی (ڈائمنڈ)، خوشدل شاہ (گولڈ) اور سعد بیگ (ایمرجنگ) بھی کراچی کنگز کا حصہ رہیں گے۔
واضح رہے کہ ملتان سلطانز نے پی ایس ایل سیزن 11 کے لیے کسی بھی کھلاڑی کو ریٹین نہیں کیا۔
ریٹین شدہ کھلاڑیوں کی مکمل فہرست:لاہور قلندرز: شاہین شاہ آفریدی (پلاٹینم)، عبداللہ شفیق (ڈائمنڈ)، سکندر رضا (گولڈ)، محمد نعیم (سلور)
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: ابرار احمد (پلاٹینم)، عثمان طارق (ڈائمنڈ)، حسن نواز (گولڈ)، شمیل حسین (ایمرجنگ)
اسلام آباد یونائیٹڈ: شاداب خان (پلاٹینم)، سلمان ارشاد (گولڈ)، اینڈریز گاؤس (سلور)
پشاور زلمی: بابر اعظم (پلاٹینم)، سفیان مقیم (ڈائمنڈ)، عبدالصمد (گولڈ)، علی رضا (ایمرجنگ)
کراچی کنگز: حسن علی (پلاٹینم)، محمد عباس آفریدی (ڈائمنڈ)، خوشدل شاہ (گولڈ)، سعد بیگ (ایمرجنگ)
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
PSL پی ایس ایل ریٹنشنز کرکٹ کھلاڑی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل ریٹنشنز کرکٹ کھلاڑی اسلام آباد یونائیٹڈ لاہور قلندرز پی ایس ایل
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔