ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے دوسرے مرحلے کی منظوری، نجکاری کمیشن کو گرین سگنل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی (ایچ بی ایف سی) کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نجکاری کمیشن کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے.
دوسری جانب اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کو بھی نجکاری کمیشن کے ذریعے شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس، تمام لین دین قانون کے مطابق کرنے پر زور
یہ فیصلے منگل کے روز یہاں ہونے والے سی سی او پی کے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔
اجلاس میں مختلف سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔
DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 chaired a meeting of the Cabinet Committee on Privatization (CCoP) today.
The committee endorsed the decision of the Privatisation Commission to go… pic.twitter.com/Xi02y1LnmD
— Office of the Deputy Prime Minister (@DPM_PK) February 3, 2026
سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی نے ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے لیے دوسرے مرحلے (سیکنڈ سائیکل) میں جانے کے نجکاری کمیشن کے فیصلے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کو بھی نجکاری کمیشن کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ نہ ہو سکی، ذمہ داری وزارت نجکاری کو سونپ دی گئی، خواجہ آصف
اس موقع پر اسحاق ڈار نے زور دیا کہ متعلقہ وزارتیں اور نجکاری کمیشن منصفانہ مارکیٹ ویلیو کا تعین یقینی بنائیں، جس میں اداروں کے اثاثوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کاروباری امکانات بھی شامل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ادارے مارکیٹ کی تبدیلیوں کے مطابق زیادہ تیزی سے خود کو ہم آہنگ کر سکیں گے۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اعظم کے خصوصی معاونین ہارون اختر اور طارق باجوہ، سیکریٹری کابینہ، سیکریٹری نجکاری، سیکریٹری لا ڈویژن، سیکریٹری صنعتیں اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کو اقتصادی اصلاحات میں سنگ میل قرار دے دیا
واضح رہے کہ جنوری میں حکومت نے ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے پہلے مرحلے کو اس وقت روک دیا تھا جب پاکستان مارگیج ری فائنانس کمپنی کی جانب سے 4.2 ارب روپے کی واحد بولی موصول ہوئی، جو کہ 13.55 ارب روپے کی مقررہ قیمت سے کہیں کم تھی۔
اب اس عمل کے دوبارہ آغاز کی توقع ہے، جس میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے ساتھ اسٹریٹجک انضمام بھی زیر غور آ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آؤٹ سورسنگ اسحاق ڈار اویس لغاری ایچ بی ایف سی برائے نجکاری پاکستان مارگیج ری فائنانس کمپنی زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ سرمایہ کار طارق باجوہ کابینہ کمیٹی نجکاری کمیشن ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی ہارون اختر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اویس لغاری ایچ بی ایف سی برائے نجکاری پاکستان مارگیج ری فائنانس کمپنی سرمایہ کار طارق باجوہ کابینہ کمیٹی نجکاری کمیشن ہاؤس بلڈنگ فائنانس کمپنی ہارون اختر نجکاری کمیشن کے فائنانس کمپنی ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔