ایران امریکا سے جوہری مذاکرات ترکیے سے عمان منتقل کرنا چاہتا ہے: امریکی میڈیاکا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی میڈیا نے علاقائی سفارتکاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا مقام استنبول کے بجائے عمان منتقل کرنے کا خواہاں ہے۔
سفارتکاروں کے مطابق امریکا مذاکرات کے ایجنڈے میں بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں ایران سے منسلک پراکسیز کی سرگرمیوں سمیت دیگر امور شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران صرف جوہری معاملات تک بات چیت محدود رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ ایران نہ تو مذاکرات میں علاقائی ممالک کی براہِ راست شمولیت چاہتا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے ہونے والی بات چیت طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے مقام اور وقت سے متعلق کوئی پیچیدگی نہیں، امریکا کے ساتھ مقام کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق ترکیہ، عمان اور خطے کے دیگر کئی ممالک نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر رکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔