بھارت سے میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی پریشان، پاکستان کو منانے کا ٹاسک سونپ دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچز میں پاکستان کے بھارت سے کھیلنے سے انکار کے بعد آئی سی سی پریشان ہوگئی۔پاکستان کے فیصلے نے کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی کو پریشان کردیا ہے اور آئی سی سی پاکستان کو منانے کے لیے راستے تلاش کرنے لگا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے معاملے پر پاکستان سے بیک چینل بات چیت کرے گا اور اس کے لیے آئی سی سی نے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو بیک چینل بات چیت کی ذمے داری دی ہے۔عمران خواجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے معاملے پر بات کریں گے جب کہ سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرنے والے عمران خواجہ کو پی سی بی کو کھیلنے پر آمادہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ عمران خواجہ کو موجودہ صورتِ حال میں پلے دی پیس میکر کا کردار ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اتوار 15 فروری کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔بھارتی میڈیا نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو تاحال باضابطہ طور اپنے پلیٹ فارم سے آگاہ کرنے کی کارروائی مکمل نہیں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عمران خواجہ ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔