لاہور میں 3 روز کے دوران 54 کروڑ روپے سے زائد کی ڈور اور گڈی فروخت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور میں تین روز کے دوران 54 کروڑ روپے سے زائد کی ڈور اور گڈی فروخت کی گئی۔کائٹ ایسوسی ایشن کے مطابق منگل کو مارکیٹس میں5 لاکھ سےزائد پتنگیں فروخت کی گئیں۔دوسری جانب پشاور کے قدیم یکہ توت بازار میں پتنگوں کی درجنوں دکانیں قائم ہیں جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے کاریگر دن رات گڈیاں اور پتنگیں تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کاریگر اپنی مہارت اور تجربے کی بدولت معیاری ، خوبصورت اور سستے داموں پتنگیں تیار کررہے ہیں جو بڑی تعداد میں لاہور اور دیگر شہروں کو بھجوائی جا رہی ہیں۔یکہ توت بازار کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں میں قائم پتنگ سازی کی ورکشاپس میں کام تیزی سے جاری ہے جہاں کاریگر مسلسل محنت کر کے بڑی تعداد میں پتنگیں اور گڈیاں تیار کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔