نیویارک: خوابوں کا شہر، جہاں آسمان جھک کر سلام کرتا ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
نیویارک: خوابوں کا شہر، جہاں آسمان جھک کر سلام کرتا ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
نیو یارک (شاہ خالد خان، ریزیڈنٹ ایڈیٹر یو ایس اے )
تصور کریں کہ آپ ایک ڈبل ڈیکر بس کی اوپر منزل پر بیٹھے ہیں، ٹھنڈی ہوا چہرے پر لپٹ رہی ہے، سامنے ٹائمز اسکوائر کی چمکتی دنیا پھیل رہی ہے، اور دور افق پر اسٹیچو آف لبرٹی کی مشعل روشنی بکھیر رہی ہے۔ بس آہستہ آہستہ مین ہٹن کی گلیوں سے گزر رہی ہے، ہر موڑ پر ایک نئی کہانی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ یہ محض ایک سیر نہیں، یہ تو نیو یارک کی روح کو چھونے، اس کی نبض کو محسوس کرنے کا سفر ہے – جہاں ہر سانس میں خواب کی خوشبو ہے، ہر دھڑکن میں نئی امید کا جوش، اور ہر کونے میں ایک ایسی حیرت انگیز خوبصورتی چھپی ہے جو دل کو چھو کر گزر جاتی ہے۔
بس اب ٹائمز اسکوائر کے بالکل سامنے سے گزری ہے۔ “دنیا کا کراس روڈز” کہلانے والا یہ مقام رات کو اتنا جگمگاتا ہے کہ لگتا ہے آسمان زمین پر اتر آیا ہو۔ بڑی بڑی ڈیجیٹل اسکرینیں، رنگ برنگی نیانی لائٹس، براڈوے کے چمکتے پوسٹرز، اور لاکھوں لوگوں کی بے چین ہلچل – یہ سب مل کر ایک ایسی جادوئی فضا پیدا کرتے ہیں کہ آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ یہاں کی تاریخ بھی کم دلچسپ نہیں: اصل میں لانگ ایکر اسکوائر تھا، جہاں گھوڑوں کی تجارت ہوتی تھی۔ 1904 میں دی نیو یارک ٹائمز نے یہاں اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا تو نام ٹائمز اسکوائر پڑ گیا۔ 1907 سے نیو ایئر کی بال ڈراپ کی روایت شروع ہوئی، جو آج دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہے۔ 1970-80 کی دہائیوں میں یہ علاقہ جرائم اور تاریکی کا شکار تھا، مگر mayor Rudolph Giuliani اور بعد میں مائیکل بلومبرگ کی صفائی اور بحالی کی مہم نے اسے دوبارہ چمکا دیا۔ اب 2026 میں America250 کے جشن کے لیے خصوصی لائٹنگ، ایونٹس اور 4 جولائی کی آزادی کی 250 ویں برسی پر بھی بال ڈراپ کی تاریخی تیاریاں زوروں پر ہیں – ایک ایسی رات جو تاریخ رقم کرے گی۔
بس آگے بڑھ رہی ہے، ہڈسن دریا کی طرف۔ دائیں طرف اسٹیچو آف لبرٹی کی مشعل چمک رہی ہے – 1886 میں فرانس کا تحفہ، جو کروڑوں تارکین وطن کو نئی زندگی کا خواب دکھاتی رہی۔ بائیں طرف *ایلِس آئی لینڈ، جہاں سے لاکھوں نے امریکہ میں اپنے قدم جمائے۔ نیو یارک کی تاریخ ایک حیران کن سفر ہے: سب کچھ 1524 میں اطالوی ایکسپلورر جیووانی دا ویرازانو کے ہاربر دیکھنے سے شروع ہوا۔ 1609 میں ہینری ہڈسن نے ڈچوں کی طرف سے تلاش کی۔ 1624 میں ڈچ ویسٹ انڈیا کمپنی نے *نیو ایمسٹرڈیم کی بنیاد رکھی – مین ہٹن کو مقامی لیناپی قبائل سے خرید کر۔ 1664 میں انگریزوں نے بغیر لڑائی کے قبضہ کر لیا اور نام نیو یارک رکھا۔ امریکی انقلاب میں یہ اہم تھا؛ 1789 میں جارج واشنگٹن نے یہاں صدارت کا حلف اٹھایا۔ 19ویں صدی میں امیگریشن کا مرکز بنا۔ 1898 میں پانچ بوروز ملا کر جدید نیو یارک سٹی وجود میں آیا۔ 20ویں صدی میں مالیاتی، صنعتی اور ثقافتی طاقت بنا – ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ (1931)، ورلڈ ٹریڈ سنٹر، اور 2001 کے 9/11 حملوں کے بعد کی لچک نے اسے مزید پختہ کیا۔ دیکھتے دیکھتے ایک چھوٹی ڈچ کالونی سے دنیا کا سب سے طاقتور اور متحرک شہر بن گیا۔
بس اب سینٹرل پارک کے کنارے سے گزر رہی ہے۔ 843 ایکڑ کا یہ سبز جنت شہر کی ہلچل سے دور ایک سکون بخش پناہ گاہ ہے۔ بہار میں چیری بلاسم کی بارش، گرمیوں میں آؤٹ ڈور کنسرٹس، خزاں میں رنگ برنگے پتے – یہاں بیٹھ کر لگتا ہے جیسے شہر کا دل یہاں دھڑک رہا ہو۔ آگے ہائی لائن نظر آ رہی ہے – پرانی ریلوے لائن کو تبدیل کر کے بنایا گیا 1.
یہ شہر امریکہ کا مالیاتی اور کاروباری مرکز ہے۔ وال سٹریٹ پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج دنیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ ہے، جہاں سے عالمی معیشت کی دھڑکن چلتی ہے۔ فیڈرل ریزرو بینک آف نیو یارک کے والٹ میں تقریباً 13.38 ملین اونس (تقریباً 416 ٹن) سونے کا ذخیرہ ہے – عالمی مالیاتی استحکام کی ایک شان دار علامت۔ ٹورزم کی بات کریں تو 2025 میں تقریباً 64.7 ملین سیاح آئے، جنہوں نے اربوں ڈالر کا معاشی اثر چھوڑا – 2026 میں فٹ بال ورلڈ کپ اور America250 کے جشن کی وجہ سے یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
ثقافتی ورثہ بھی لازوال ہے: میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ (دی میٹ) اور موڈرن آرٹ کا میوزیم (MoMA) فن کی دنیا ہیں۔ براڈوے کے تھیٹرز ہر رات نئی کہانیاں جنم دیتے ہیں۔ لنکن سنٹر اور میٹروپولیٹن اوپیرا موسیقی کے شاہکار ہیں۔
اس شہر کا سب سے حسین رنگ اس کا تنوع ہے – تقریباً 800 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی تو دل کی دھڑکن ہے۔ نیو یارک سٹی میں پاکستانی نژاد لوگوں کی تعداد تقریباً 55,000 سے 60,000 ہے (ریاست نیو یارک میں 96,000 سے زائد، میٹرو ایریا میں 1 لاکھ سے زیادہ کا تخمینہ)۔ لٹل پاکستان (بروکلن کا Coney Island Avenue) میں پاکستانی دکانیں، ریسٹورنٹس اور ہلال مارکیٹیں ہیں جہاں بریانی، نہاری، حلیم اور گول گپوں کی خوشبو گلیوں میں گھل مل جاتی ہے۔ عید، یوم آزادی (14 اگست)، کرکٹ ٹورنامنٹس، اور اردو کی محافلیں جہاں غالب، فیض، اقبال اور پروین شاکر کی شاعری گونجتی ہے۔ *مکی مسجد، *مسجد الاحسان اور دیگر مساجد سے اذان کی آواز شہر کی ہلچل میں سکون بخشتی ہے۔ یہ کمیونٹی نہ صرف اپنی ثقافت کو زندہ رکھتی ہے بلکہ شہر کی معیشت اور سماجی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
پچھلے کالم میں واشنگٹن ڈی سی کی بات کی تھی – جہاں تاریخ اور سیاست آزادی کی گواہی دیتی ہے۔ آج یہ سلسلہ امریکہ کے شہروں کو باری باری اجاگر کر رہا ہے۔ ڈیلی سب نیوز کے ذریعے اردو میں پاکستانی کمیونٹی تک پہنچتے ہوئے دیکھا ہے کہ یہاں کم سے کم اجرت $17 فی گھنٹہ ہے (نیو یارک سٹی کے لیے 2026 میں)، جو ٹیکساس کے $7.25 سے کہیں آگے ہے اور محنت کشوں – بشمول ہمارے پاکستانی بھائی بہنوں – کے لیے بہتر معیار زندگی اور انصاف کی ضمانت ہے۔
بس اب رک گئی ہے۔ نیو یارک کو سلام – اس کی تاریخ کو، ٹائمز اسکوائر کی چمک کو، خوابوں کو، مالیاتی طاقت کو، ثقافتی تنوع کو، اور پاکستانی دل کی دھڑکن کو۔
اگر آپ یہاں آئیں تو ڈبل ڈیکر بس میں بیٹھ کر سیر کریں – محسوس کریں، جئیں، اور خوابوں کو حقیقت بنائیں۔ کیونکہ یہاں ہر لمحہ ایک نئی، حیران کن کہانی ہے جو آپ کو ہمیشہ یاد رہے گی۔
(شاہ خالد خان – ایک پاکستانی دل، امریکہ کی روح، اردو کی آواز اور ڈیلی سب نیوز کا فخریہ نمائندہ)
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے میں اہم پیش رفت، اعجاز احمد شیخ کو ڈائریکٹر ماسٹر پلان تعینات کر دیا گیا پاکستان کے لیے وسطی ایشیا میں ازبکستان کی سب سے زیادہ اہمیت کیوں ہے؟ واشنگٹن ڈی سی: امریکہ کا سیاسی اور ثقافتی مرکز، جہاں تاریخ کی ہر سانس آزادی کی گواہی دیتی ہے کم ظرف دشمن مری و گلیات برف باری، حسنِ فطرت اور حکومتی امتحان۔۔۔. ٹیکساس: جہاں خواب جاگ اٹھتے ہیں، ستارے گرتے نہیں اور دل پاکستان سے ٹکرا کر بھی دھڑکتے رہتے ہیں! اوورسیز پاکستانی اور او پی ایف: ایک خاموش المیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :