ویب ڈیسک :وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کلب شیخوپورہ کے عہدیداران سے ملاقات کی، جس میں حکومتِ پنجاب کی میڈیا پالیسی، جاری اصلاحات اور صحافیوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، بسنت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بسنت کے لیے سامان جلد سستا کیا جائے گا، سب لوگ خوشی خوشی بسنت منائیں گے اور اپنی ذمہ داری کے ساتھ تہوار کو تہوار سمجھ کر منائیں۔

مریم اورنگزیب کا رات گئےاندرونِ شہر کا دورہ، بسنت انتظامات کا جائزہ لیا

ملاقات کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صحافیوں کا تحفظ اور فلاح حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے آزاد، ذمہ دار اور مضبوط میڈیا کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت صحافتی اداروں کو جدید سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ میڈیا اپنے فرائض بہتر انداز میں سرانجام دے سکے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پریس کلبز جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ صحافیوں کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کے لیے فلاحی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کا بھی اعلان کیا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے کی عوام کے لیے بہترین اقدامات کر رہی ہیں۔

پھلوں کی آج کی ریٹ لسٹ -04  فروری، 2026

انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس بار ایس او پیز کے مطابق بسنت منائی گئی تو آئندہ سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی۔

 عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بسنت کو انجوائے کرنے کے لیے پورے ملک سے عوام لاہور آ رہی ہے، لوگ خوشیوں کا تہوار منائیں، جبکہ پی ٹی آئی کے مقدر میں سیاہی اور سیاہ راتوں کے سوا کچھ نہیں۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں صحافیوں نے وزیر اطلاعات کی یقین دہانیوں کو سراہا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مستحق خاندانوں کیلئے مفت موبائل سم فراہم کرنے کا اعلان

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں