شاہد خٹک کی 8 فروری کے لاک ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش کی مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 2 فروری کو خیبر پختونخوا ہاؤس میں پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے 8 فروری کے لاک ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش کی مخالفت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے شاہد خٹک کا مؤقف تھا لاک ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش سے صوبے کے عوام متاثر ہوں گے، خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، یہاں احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں، کے پی میں لاک ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش سے ہمارے لیے مسائل پیداہوں گے۔
ذرائع نے بتانا کہ رکن قومی اسمبلی عاطف خان نے اجلاس کے دوران شاہد خٹک کی بات کی تائید کی جبکہ شاہد خٹک کا یہ بھی کہنا تھا اڈیالہ جیل کے باہر مظاہروں میں شرکت نہ کرنے والوں کی فہرست بنا دی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے اجلاس میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم پر ورکرز کا دباؤ ہے، ہم کس کس کو راضی کریں؟ ہم علیمہ خان کو، ورکرز کو اور اب آپ کو، کس کس کو راضی کریں؟ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو پھر تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو جاتے ہیں۔
جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کا کہنا تھا اجلاس میں جنید اکبر سمیت ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، میں نےاجلاس میں کہا تھا کہ لاک ڈاؤن سے یہاں کے لوگوں کو مشکلات ہوں گی جبکہ صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا جنید اکبر نے اس معاملے پر مؤقف دینے سے گریز کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا پی ٹی آئی شاہد خٹک
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔