ارب پتی فلاحی کارکن اور بل گیٹس کی سابق اہلیہ میلنڈا فرنچ گیٹس نے کہا ہے کہ جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی سرکاری فائلز میں سابق شوہر بل گیٹس کا نام سامنے آنے سے ان کی ازدواجی زندگی کے نہایت تکلیف دہ لمحات دوبارہ یاد آ گئے ہیں۔

این پی آر کے پوڈکاسٹ  ’وائلڈ کارڈ‘  میں گفتگو کرتے ہوئے میلنڈا فرنچ گیٹس نے کہا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کی جانے والی لاکھوں دستاویزات نے انہیں ناقابلِ بیان غم میں مبتلا کر دیا۔

ان فائلز میں بدنام فنانسر جیفری ایپسٹین کے تحریر کردہ ایسے حوالے شامل ہیں جن میں بل گیٹس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایپسٹین 2019 میں جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کے دوران جیل میں ہلاک ہو گیا تھا۔

میلنڈا نے کہا، ’جب بھی یہ تفصیلات سامنے آتی ہیں تو میرے لیے ذاتی طور پر یہ بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس سے میری شادی کے کچھ انتہائی دردناک دن یاد آ جاتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے ایپسٹین فائلز: نواز شریف کے بجائے عمران خان کو کیوں موثر شخصیت قرار دیا گیا؟

اگرچہ فائلز میں کسی کا نام آنا بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں، تاہم ان دستاویزات نے ایک بار پھر اس وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس میں سیاستدان، بزنس ٹائیکونز، فلاحی شخصیات اور مشہور افراد شامل تھے۔ اور جن میں سے کئی نے ایپسٹین کے 2008 میں نابالغ لڑکی سے جنسی جرم کی سزا کے بعد بھی اس سے روابط قائم رکھے۔

میلنڈا نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں اپنے سابق شوہر کا دفاع نہیں کریں گی۔
’جو بھی سوالات باقی ہیں، وہ ان لوگوں کے لیے ہیں، حتیٰ کہ میرے سابق شوہر کے لیے بھی۔ ان سوالوں کا جواب انہیں دینا ہوگا، مجھے نہیں۔‘

جاری کردہ فائلز میں 2013 کی 2 ای میلز بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ایپسٹین نے خود تحریر کیں۔

ایک ای میل میں اس نے دعویٰ کیا کہ بل گیٹس کسی جنسی بیماری میں مبتلا ہوئے اور اپنی اہلیہ کو خفیہ طور پر اینٹی بایوٹکس دینے کے خواہاں تھے۔

دوسری ای میل میں ایپسٹین نے بل گیٹس پر ’اخلاقی طور پر نامناسب‘ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔

تاہم بل گیٹس کے ترجمان نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے ’ایک ثابت شدہ جھوٹے اور ناراض شخص‘ کے ہیں اور سراسر بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ دستاویزات صرف ایپسٹین کی مایوسی کو ظاہر کرتی ہیں کہ اس کا بل گیٹس سے تعلق برقرار نہ رہ سکا۔

بل گیٹس ماضی میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ان کی ایپسٹین سے ملاقاتیں محدود تھیں اور وہ بھی محض فلاحی منصوبوں پر گفتگو تک تھیں، جو کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے شاہ چارلس کی سابق بھابی، بھتیجیوں کا کیا تعلق تھا؟

میلنڈا فرنچ گیٹس نے انٹرویو میں کہا، ’مجھے( بل گیٹس کے ساتھ) اپنی شادی ختم کرنا پڑی، پھر میں نے فاؤنڈیشن سے بھی علیحدگی اختیار کی۔ یہ سب بہت افسوسناک ہے، لیکن میں زندگی میں آگے بڑھ سکی ہوں، اور اب امید ہے کہ ان خواتین کو انصاف ملے گا جنہوں نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔‘

میلنڈا اور بل گیٹس نے 27 سالہ شادی کے بعد 2021 میں طلاق لے لی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق میلنڈا طلاق سے قبل ہی بل گیٹس کے ایپسٹین سے روابط پر شدید بے چینی کا شکار تھیں۔ بعد ازاں بل گیٹس نے 2019 میں مائیکروسافٹ کی ایک ملازمہ سے تعلق کا اعتراف بھی کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایپسٹین فائلز بل گیٹس میلنڈا فرنچ گیٹس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز بل گیٹس میلنڈا فرنچ گیٹس میلنڈا فرنچ گیٹس فائلز میں بل گیٹس گیٹس نے

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری