عمران خان پر حملے کے مجرم کو مزید سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وزیرآباد کی عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان پر وزیر آباد حملے کے مجرم محمد نوید کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے ایک اور الزام میں 4 سال قید کی سزا سنادی۔
رپورٹ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ فضل الٰہی نے مجرم کو پنجاب آرمز (ترمیم شدہ) آرڈیننس 2015 کے تحت مجرم قرار دیا۔
مقدمہ/ایف آئی آر نمبر 742/2022 سے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مجسٹریٹ نے چار سال کی سادہ قید کے ساتھ ساتھ 40,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
مجسٹریٹ نے ہدایت کی کہ یہ سزا کسی بھی دیگر سزاؤں کے ساتھ ساتھ چلائی جائے گی جو مجرم دوسرے فوجداری مقدمات میں کاٹ رہا ہو، جو اس کے جیل میں داخل ہونے کی تاریخ سے لاگو ہو گا۔
عدالت کی جانب سے 2 فروری کو جاری ہونے والے سزا کے وارنٹ کے مطابق، سینٹرل جیل گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈنٹ کو چار سال کی سزا پر عمل درآمد شروع کرنے کے لیے محمد نوید کو تحویل میں لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اپریل 2025 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 302بی کے تحت محمد نوید کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
3 نومبر 2022 کو پنجاب کے علاقے وزیر آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران مسلح شخص کی فائرنگ سے سابق وزیر اعظم عمران خان، سینیٹر فیصل جاوید اور متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک کارکن جان کی بازی ہار گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے اس وقت کی اتحادی حکومت پی ڈی ایم اور کچھ سرکاری عہدیداروں پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، تاہم پولیس کی جانب سے واقعے کی ایف آئی آر جائے وقوعہ سے گرفتار کیے گئے محمد نوید اور دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔