ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی
امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کوبھی دعوت دے دی،سفارتی ذرائع
ایران اور امریکا کے درمیان ترکیے میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔دفترخارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ترکیے میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہاں پاکستان کو مذاکرات کے لیے دعوت دی گئی ہے’۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اور امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیے میں شروع ہو رہے ہیں۔امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں کریں گے تاکہ خطہ نئی جنگ سے بچ جائے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ترجیح کسی تنازع سے بچنا اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات میں کمی لانا ہے اور مذاکرات میں خطے کی طاقتوں کے ایک گروپ کو بھی دعوت دی گئی ہے۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرعہدیدارنے بتایا کہ استنبول میں مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کرسکتے ہیں اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور تمام معاملات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے طے کیے جانے چاہئیں۔مزید بتایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیتا ہے اور اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان استنبول مذاکرات میں ایک ذمہ دار اور تعمیری شراکت دار کے طور پر شرکت کرے گا اور فریقین کو کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات اپنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ ایران۔امریکا کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایران۔امریکا تنازع میں پاکستان ماضی میں بھی اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان نے مختلف ادوار میں دونوں ممالک کے ساتھ قریبی سفارتی روابط کے ذریعے غلط فہمیوں کے ازالے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پس پردہ اور اعلانیہ کوششیں کیں، جنہیں عالمی سطح پر سراہا بھی گیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ بھی طویل المدتی اور کثیرالجہتی روابط موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دونوں فریقین کے لیے قابل قبول اور قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے، اسی سفارتی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان استنبول مذاکرات میں تعمیری تجاویز پیش کرے گا۔سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں اس حوالے سے دیگر علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے بھی مشاورت جاری رکھے گا تاکہ استنبول مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر معاہدہ نہیں ہوسکا تو برا ہوسکتا ہے۔امریکا کا بحری جہاز گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج کے دوران ایران کے قریب تعینات کردیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان استنبول دونوں ممالک کے میں ہونے والے مذاکرات میں استنبول میں نے بتایا کہ امریکا کے کے درمیان دی گئی ہے کے ذریعے کرے گا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔