Islam Times:
2026-06-02@22:14:55 GMT

ڈیووس میں ٹرمپ کی فرعونیت

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

ڈیووس میں ٹرمپ کی فرعونیت

اسلام ٹائمز: امریکی صدر نے سوئٹزرلینڈ کے عوام ور حکومت کی توہین کی اور ان کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا۔ اسی طرح اس نے ڈنمارک کی عوام کو نمک حرام قرار دیا اور پورے یورپ کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ٹرمپ نے تمام یورپی عوام اور حکمرانوں کو یہ طعنہ بھی دیا کہ اگر امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ان کی مدد نہ کرتا تو وہ اس وقت جرمنی یا جاپانی زبان میں بات کر رہے ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی کینیڈا کو بھی نہیں بخشا اور کینیڈا کی عوام اور حکومت کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو کینیڈا نام کی کوئی ریاست بھی وجود نہ رکھتی۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں گرین لینڈ کے مسئلے کا بھی ذکر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ "ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد گرین لینڈ، ڈنمارک کو واپس دے دیا تھا۔" تحریر: علی احمدی
 
اس سال (2026ء) سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اس کے فرعونی طرز عمل کی بھرپور عکاسی کرنے والی تقریروں میں سے ایک تھی۔ اس نے اپنی تقریر میں یورپ کی بے مثال تذلیل کی۔ ڈیووس اجلاس میں ٹرمپ نے ایک گھاگھ ڈکٹیٹر کی طرح پورے یورپ کا مذاق اڑایا اور اس کی تحقیر کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک سے لے کر سوئٹزرلینڈ تک، اپنے خاص اور البتہ تمسخر آمیز طرز عمل کے ذریعے میزبان کی دل بھر کر تذلیل بھی کی اور اسے طرح طرح کی دھمکیوں سے بھی نوازا۔ امریکی صدر نے یورپی حکام کو مخاطب قرار دے کر کہا: "اگر ہم امریکی نہ ہوتے تو تم یورپی اس وقت یا تو جرمن یا پھر جاپانی زبان میں بات کر رہے ہوتے۔" یہ جملہ درحقیقت ایک تاریخی حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
 
امریکی صدر نے اس جملے میں یورپی حکام کو یہ طعنہ دیا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس جنگ کے خاتمے اور مغربی ممالک کی فتح میں امریکہ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور اگر وہ یہ کردار ادا نہ کرتا تو مغربی ممالک کو اس جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑ جاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس پہنچے تو حکام اور عوام، دونوں کی جانب سے ان کا بہت سردمہری سے استقبال کیا گیا۔ اس سرد استقبال کے ساتھ ساتھ ڈیووس کے عوام کی جانب سے امریکی صدر کے خلاف  احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔ مزید برآں، ڈیووس کے ایک پہاڑ کے دامن میں ایک اہم وال چاکنگ بھی کی گئی تھی جو صحافیوں کی  توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ وال چاکنگ ورلڈ اکنامک فورم میں ٹرمپ کی طے شدہ تقریر سے چند گھنٹے قبل ظاہر ہوئی۔
 
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس پہاڑ کے دامن میں "NO KINGS" کا جملہ لکھا گیا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کی عوام نے اس اقدام کے ذریعے نیز امریکی صدر کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اہم پیغام دیا تھا۔  یہ پیغام دراصل یہ تھا کہ وہ ٹرمپ کو اپنے ملک میں خوش آمدید نہیں کہتے اور اس کی بنیادی وجہ بھی امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے جس پر یورپی عوام بہت زیادہ برہم اور ناراض ہے۔ بہر حال، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس سربراہی اجلاس میں تقریر کا آغاز کیا تو دنیا نے ٹرمپ کے نئے چہرے کی نقاب کشائی کا مشاہدہ کیا۔ ایسا چہرہ جو سراسر فرعونیت اور غرور پر مبنی تھا اور دنیا نے اس سے پہلے ٹرمپ میں اس حد تک تکبر کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔
 
امریکی صدر نے سوئٹزرلینڈ کے عوام ور حکومت کی توہین کی اور ان کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا۔ اسی طرح اس نے ڈنمارک کی عوام کو نمک حرام قرار دیا اور پورے یورپ کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ٹرمپ نے تمام یورپی عوام اور حکمرانوں کو یہ طعنہ بھی دیا کہ اگر امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ان کی مدد نہ کرتا تو وہ اس وقت جرمنی یا جاپانی زبان میں بات کر رہے ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی کینیڈا کو بھی نہیں بخشا اور کینیڈا کی عوام اور حکومت کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو کینیڈا نام کی کوئی ریاست بھی وجود نہ رکھتی۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں گرین لینڈ کے مسئلے کا بھی ذکر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ "ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد گرین لینڈ، ڈنمارک کو واپس دے دیا تھا۔"
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا: "ہم کس قدر احمق تھے جو ہم نے ایسا کیا، لیکن ہم نے یہ کر دکھایا۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ ڈنمارک والے کتنے نمک حرام ہیں؟" امریکی صدر نے گرین لینڈ کے بارے میں یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "آپ کے پاس اختیار ہے، آپ "ہاں" کہہ سکتے ہیں اور اس پر ہم آپ کے انتہائی شکرگزار ہوں گے۔ یا آپ "نہیں" کہہ سکتے ہیں اور ہم اسے ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں گے۔" اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کینیڈا کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "اگر امریکہ نہ ہوتا تو کینیڈا اور کینیڈین نام کی کوئی چیز بھی نہ ہوتی، کینیڈین وزیراعظم کو چاہیے کہ جب وہ دوبارہ امریکہ کے بارے میں بات کرنا چاہیں تو اس بات کو یاد رکھیں۔" اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی حکام کو اپنی فرعونیت کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
 
ٹرمپ نے یورپی حکام اور عوام کو طرح طرح کے طعنے دیے اور ان کی بھرپور انداز میں سرزنش بھی کی۔ ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کہ امریکہ نے پوری دنیا کو سنبھال رکھا ہے اور اگر امریکہ نہ چاہے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ امریکی صدر نے حتی میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کی بھی تذلیل کی اور اسے بھی دھمکیاں دینے سے گریز نہیں کیا۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں سوئٹزرلینڈ کے بارے میں کہا: "ہمارے بغیر سوئٹزرلینڈ بھی سوئٹزرلینڈ نہیں ہے، وہ تمام ممالک جن کے نمائندے ڈیووس سربراہی اجلاس میں موجود ہیں، امریکہ کے بغیر ان کا ملک پہلے جیسا ملک باقی نہیں رہے گا۔ میں حتی یہ بھی  کہہ سکتا تھا کہ میں سوئٹزرلینڈ پر 70 فیصد ٹیکس عائد کرتا ہوں تاکہ اس سے بہت زیادہ پیسہ کما سکوں لیکن ایسی صورت میں سوئٹزرلینڈ شاید مالی طور پر تباہ ہو جاتا۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے اپنی تقریر میں سوئٹزرلینڈ کے امریکی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر امریکہ نہ یورپی حکام میں بات کر اجلاس میں گرین لینڈ کو مخاطب عوام اور کی جانب لینڈ کے کے خلاف کی عوام تھا کہ کی اور کے بعد اور اس

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان