پاکستان علماء و مشائخ کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور امتِ مسلمہ کا وہ گہرا زخم ہے جو فلسطین کی طرح مسلسل خون بہا رہا ہے۔

مولانا طاہر محمود اشرفی پاکستان کی عوام اور ریاست ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس وقت تک کھڑی رہے گی جب تک کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت نہیں مل جاتا۔

5 فروری کو ملک بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ نمازِ فجر کے بعد اہلِ کشمیر کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں، جبکہ مساجد و مدارس میں سیمینارز اور اجتماعات ہوں گے۔
6 فروری کو بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے پر یومِ مذمت منایا جائے گا، شہداء و غازیوں اور افواجِ پاکستان، پولیس… pic.

twitter.com/BOrfcxvgOO

— WE News (@WENewsPk) February 4, 2026

انہوں نے مزید کہا کہ 5 فروری کو پورے ملک میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ صبح فجر کی نماز کے بعد کشمیری عوام، ان کے شہداء اور غازیوں کے لیے دعائیں کی جائیں گی۔ ملک کے تمام علماء، مشائخ اور مختلف مذاہب کے افراد کشمیری عوام کو خراج تحسین پیش کریں گے۔

کشمیری جدوجہد کی پوری دنیا میں ہر جگہ پر جہاں پر بھی کوئی امن پسند ہے وہ تائید کرے گا اور جمعہ کو جہاں پر پورے ملک میں بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی پر یوم مذمت منایا جائے گا وہاں پر ہندوستان کی جارحیت کے خلاف اور کشمیری عوام کی جدوجہد کے حق میں بھی خطبات جمعہ میں علماء اور مشایخ اور پاکستان کی عوام ان کو خراج تحسین پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر، ’طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے‘

ان کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ تعالی وہ دن قریب ہے جب کشمیر بنے گا پاکستان۔ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے گا اور یہ ہندوستان کی اور اسرائیل کی جو بربریت و وحشت ہے یہ کشمیر اور فلسطین سے ختم ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان اور بھارت مقبوضہ کشمیر مولانا طاہر اشرفی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت مولانا طاہر اشرفی منایا جائے گا یکجہتی کشمیر مولانا طاہر کشمیری عوام

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار