مظلوموں کی آہوں سے بچو
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اے ابن آدم کراچی کو لاوارث بنانے والے اللہ کے عذاب سے تم بھی نہیں بچو گے، کراچی والوں کا کام کیا لاشیں اُٹھانا رہ گیا، کبھی بھتا نہ دینے پر گولی مار دی جاتی ہے تو کبھی ظالم ٹرالر مار دیتا ہے، کوئی پرسان حال نہیں، اتنے بڑے بڑے حادثات ہونے کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا اور ایک اور حادثہ رونما ہوگیا۔ گل پلازہ کی ظالم آگ نے 86 لوگوں کی زندگی کے چراغوں کو گل کردیا۔ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔ ایک دکاندار جو پلازہ میں پھنسا ہوا تھا اُس نے آخری پیغام یہ دیا کہ غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا، اس بیچارے کی کیا غلطی، غلطی تو ہے اداروں کی کہ جن کی نااہلی کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوئیں، سینئر رپورٹر مرتضیٰ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس سے پہلے میں اس رپورٹ پر بات کروں میں آپ لوگوں کو ماضی میں آگ لگنے والے واقعات یاد کراتا ہوں۔ 2016ء میں پہلی بار گل پلازہ میں خوفناک آگ لگ چکی تھی۔ 2022ء میں حفیظ سینٹر میں آگ لگی۔ 2021ء میں چائولہ مارکیٹ میں آگ لگی۔ جون 2022ء میں Chase up میں آگ لگی۔ 2022ء میں صدر کی مارکیٹ میں آگ لگی جس میں میرے بھی کپڑے جل گئے تھے۔ 2024ء میں رمپا پلازہ میں آگ لگی۔ 2024ء گلستان جوہر کی فرنیچر مارکیٹ جل کر خاک ہوگئی۔ 25 نومبر 2023ء آر جے مال میں خطرناک آگ لگی۔ جون 2025ء میں ملینیم مال میں آگ لگی۔ 18 فروری 2025ء کو کلفٹن شاپنگ سینٹر میں آگ لگی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں آگ لگی۔ بلدیہ کی فیکٹری کی آگ تو کوئی نہیں بھول سکتا اور پھر ایک قیامت ٹوٹی 17 اور 18 جنوری کی درمیانی رات ایک بار پھر گل پلازہ میں آگ لگی جس نے پوری عمارت کو زمین بوس کردیا۔
کراچی کے ذمے داران جائے حادثہ پر دیر سے پہنچے، کچھ کو تو عوام نے وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا جس کو دیکھو وہ ایک نئی کہانی سنا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے ہر حادثے کے بعد کرکے چلے جاتے ہیں۔ مرنے والوں کے لیے ایک کروڑ اور دکانداروں کے لیے دوبارہ ان کے کاروبار کو سیٹ کرنے کا اعلان کیا۔ گورنر سندھ نے پانی اور کھانے دینے کا اعلان کیا۔ یہ ڈرامے بازی تو عوام برسوں سے دیکھ رہے ہیں، اس حادثے نے کئی سوالات بلند کیے ہیں۔ سب سے پہلے حکمران سندھ کے بادشاہ اور ان کے حواری فرماتے ہیں سیاست نہ کریں، بچے گٹر میں گر جائیں سوال نہ کرو، آگ لگ جائے سوال نہ کرو، ڈمپر مار دے سوال نہ کرو، جو کرنا ہے ہم کریں گے کیونکہ ہم تو سائیں سرکار ہیں اور تمہارے لیڈر تو ہم نے خرید لیے ہیں۔ لہٰذا کراچی کا مال ہم دونوں مل کر ہی کھائیں گے۔ ایک پیپلز پارٹی کے جیالے لیڈر فرماتے ہیں یہ آگ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کا کارنامہ ہے، شرم بھی نہیں آتی ان کو جب ان پر سوالات اُٹھتے ہیں تو ان کو بس جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نظر آتی ہے۔ ارے میرے جیالے لیڈر تم نے سب کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے یہ سب تمہارے اپنے اداروں کی نااہلی ہے جن میں تم نے نااہل افسران کی فوج بھرتی کررکھی ہے۔ ان افسران کو مال کمانے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا مگر تم کو شرم تو آتی نہیں یہ رپورٹ دیکھ لو!
ایک بڑے اخبار کے ایماندار صحافی کی خبر ہے کہ آگ کے ذمے داروں میں گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن، الیکٹرک انسپیکٹوریٹ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ شامل ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر ایسوسی ایشن کی کوئی شکایت موجود نہیں ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پلاٹ نمبر 32 پی آر ون ڈسٹرکٹ سائوتھ گل پلازہ گرائونڈ پلس بیس
منٹ پلس تھری فلور کا ریگولرائزیشن پلان 14 اپریل 2003ء کو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے منظور کرکے دیا۔ منظور شدہ پلان کے مطابق بیسٹمنٹ میں 174 دکانیں، گرائونڈ پر 405 دکانیں، پہلی منزل پر 175 دکانیں، دوسری منزل پر 175 اور تیسری منزل پر 134 دکانیں، مجموعی تعداد 1021 بنتی ہے۔ تکمیل کے بعد گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کی ذمے داری شروع ہوگئی، یہ ایسوسی ایشن ہر دکان سے ماہانہ 5500 ہزار لیتی ہے جو ماہانہ 66 لاکھ اور سالانہ تقریباً 8 کروڑ روپے بنتے ہیں تو پھر گل پلازہ کی ہر دکان میں فائر فائٹنگ سسٹم کیوں نصب نہیں تھا؟ آگ بجھانے والا سلنڈر اور مٹی کی بالٹیاں کیوں نہیں رکھی گئیں۔ مارکیٹ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے راستوں پر دکانیں بڑھانے اور کائونٹر لگانے کی اجازت دے کر باہر نکلنے کے راستے کس کے حکم پر تنگ ہوئے۔ ایک کی دو دکانیں بنانے والوں کی شکایت ایس بی سی اے میں کیوں نہیں کی گئی۔ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگنے والی آگ کو فائر فائٹنگ سسٹم کے ذریعے فوراً بجھا دیا جاتا تو 86 افراد کی جان نہیں جاتی۔ گل پلازہ کی تقریباً 25 فی صد دکانیں جلنے کی وجہ سے بلڈنگ گر گئی تو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس نقصان کے ذمے داروں میں دوسرا نام الیکٹرک انسپیکٹوریٹ سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ شامل ہیں۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ پر ایسوسی ایشن کی کوئی شکایت موجود نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق بتایا کہ سول ڈیفنس کی ذمے داری ہے کہ وہ شہر کی ایسی بلڈنگز جن کی نشاندہی کچھ عرصے قبل ایس بی سی اے نے انہیں کی تھی وہاں فائر فائٹنگ سسٹم نصب کرائیں اور آگ لگ جانے کی صورت میں آگے آئیں، لوگوں کو آگ سے بچائیں۔ طبی امداد دیں اور آگ میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالیں جیسا کہ کچھ دن قبل سول ڈیفنس کے ایک پروگرام میں وفاقی وزیر محسن نقوی کو دکھایا اور بتایا گیا فائر بریگیڈ کی ناکامی کی وجہ بھی کرپشن ہے، فائر مین کی آگ سے حفاظت کا سامان صرف کاغذوں میں خریدا جاتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فائرمین کو اگر پوری حفاظتی کٹ دی ہوتی تو فائر مین کی جانچ بچ سکتی تھی پھر تقریباً ایک میل دور فائر اسٹیشن سے گل پلازہ آنے میں کتنی دیر لگتی ہے یہ سب جانتے ہیں ایک اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسی کی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں دہشت گردی نظر نہیں آرہی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گل پلازہ کا ہنگامی دورہ کیا انہوں نے کہا کہ اہل کراچی کے سنگین مسائل کے ذمے دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں ان کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور وہ خود اس شہر کو لا وارث اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ خود گلی گلی اور محلوں میں جا کر عوام کی قوت کو جمع کریں گے۔ وزیراعظم شادی سے فارغ ہوں تو آکر کراچی کا حال دیکھیں۔ پی ایم ڈی اے اور این ڈی ایم اے کہاں ہیں، پاکستان کے عوام کے فنڈز سے یہ ادارے چلتے ہیں کوئی ہیلی کاپٹر سروس موجود نہیں کوئی تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں تھا۔ الخدمت، سیلانی، چھیپا، ایدھی اور دیگر NGO’s اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام کررہے تھے۔ اسنارکل کیوں کام نہیں کررہی، پانی کیوں دستیاب نہیں تھا گاڑیوں کے لیے ڈیزل کیوں دستیاب نہیں تھا، کیمیکل کیوں دستیاب نہیں تھا، جو کام ریاست کے کرنے کے ہیں وہ عوام خود کررہے ہیں، سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ آخر میں ایک اہم بات ابن آدم کے قلم سے آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفی سہولت موجود نہیں ہے لو کر لو بات! اب مزید حادثات کے لیے عوام کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
شجاع صغیر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن ایس بی سی اے میں ا گ لگی موجود نہیں پلازہ میں سول ڈیفنس گل پلازہ نہیں تھا کے ذمے کے لیے
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔