ملتان، برصغیر پاک و ہند کے روحانی پیشوا سخی سلطان علی اکبر شمسی کا 455واں عرس شروع
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت سخی سلطان علی اکبر شمسی کی دین اسلام کی تبلیغ کی وجہ سے کثیر تعداد میں غیرمسلم مسلمان ہوئے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اولیااللہ، صوفیائے کرام کی تعلیمات کے پیغام کو عام کرنا ہوگا اور ایک باوقار قوم بننے کے لیے بحیثیت مسلم اور پاکستانی بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ دربار عالیہ حضرت سخی سلطان علی اکبر شمسی شیعہ میانی کے سجادہ نشین مخدوم سید مشاہد عباس شمسی اور ممبر صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب و مرکزی صدر تحفظ عزاداری کونسل خاور شفقت بھٹہ نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے اللہ کے ولیوں کے راستوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا تب ہی ہم مشکلات و مصائب سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، اولیا اللہ کی تعلیمات امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے کیونکہ یہ استانے فیوض و برکات کا محور ہیں، اج ہمیں موازنہ کرنا ہوگا کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسلم ہونے کے باوجود ہم اکیلے کھڑے ہیں۔ مخدوم سید قسور علی شمسی مرحوم، الحاج شفقت حسنین بھٹہ مرحوم نے اتحاد بین المسلمین کے لیے جو کاوشیں کیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سلطان علی اکبر اکیڈمی ویلفیئر سوسائٹی ملتان کے زیراہتمام بر صغیر پاک و ہند کے روحانی پیشوا حضرت پیر سید سخی سلطان علی اکبر شمسی کے 455 ویں دو روزہ سالانہ عرس مبارک کے موقع پر خطاب کے دوران کیا۔
نقابت کے فرائض تحفظ عزاداری امام حسین کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید طالب حسین پرواز نے سرانجام دیے، تلاوت قاری محمد اسماعیل سعیدی اور نعت محمد یوسف نے پڑھی جبکہ سید احمد مجتبی گیلانی، مخدوم سید ظہور حسین شمسی، مخدوم سید اختر حسین شمسی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں اصغر علی قریشی ہاشمی، علی عباس قریشی ہاشمی سمیت معززین علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ خاور شفقت بھٹہ نے مزید کہا کہ حضرت سخی سلطان علی اکبر شمسی کی دین اسلام کی تبلیغ کی وجہ سے کثیر تعداد میں غیرمسلم مسلمان ہوئے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اولیااللہ، صوفیائے کرام کی تعلیمات کے پیغام کو عام کرنا ہوگا اور ایک باوقار قوم بننے کے لیے بحیثیت مسلم اور پاکستانی بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، اخر میں دعا سید طالب حسین پرواز نے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سخی سلطان علی اکبر شمسی کرنا ہوگا کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔