لاہور ہائیکورٹ کا بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کے موقعے پر عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں محفوظ بسنت کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک
عدالت نے بسنت کے دوران ریڈ زون میں واقع پارکوں میں میڈیکل سہولیات کے کیمپس قائم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ عبوری حکم جسٹس ملک اویس خالد نے گزشتہ سماعت کے تحریری فیصلے میں جاری کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ بسنت فیسٹیول کے دوران تمام متعلقہ فریقین عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام سہولیات کو فعال رکھا جائے۔
اس موقعے پر اے ڈی سی جی کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ تین ہسپتالوں کو موبلائز کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: لاہور میں بسنت کے رنگ بکھر گئے
لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت لاہور لاہور ہائیکورٹ کے بسنت کے حوالے سے احکامات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاہور لاہور ہائیکورٹ بسنت کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔