پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے متعلق اسٹیٹ بینک کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے متعلق اسٹیٹ بینک کی وضاحت WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
اسام آباد (آئی پی ایس )گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کے اجرا کی تجویز کابینہ کو بھجوا دی ہے، جس میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے بورڈ نے تمام نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن فائنل کر کے وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کر دیے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اب نئے کرنسی نوٹس کے اجرا کی حتمی منظوری وفاقی حکومت نے دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام مالیت کے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن تبدیل کیے جا رہے ہیں اور نئے نوٹس کے ڈیزائن اور اجرا میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پلاسٹک کرنسی نوٹس کو بھی تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے معاملے کو چھیڑنے سے معیشت میں اتار چڑھا آ سکتا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جب گورنر اسٹیٹ بینک واضح کر چکے ہیں کہ پانچ ہزار کا نوٹ ختم نہیں ہو رہا تو اس معاملے پر بات بھی ختم ہو گئی۔
اجلاس میں بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم نکلوانے اور جمع کروانے پر ایس ایم ایس چارجز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صارفین سے ایس ایم ایس الرٹس پر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ جو ایس ایم ایس لازمی نوعیت کے ہوتے ہیں ان پر کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے، جبکہ اضافی سروسز سے متعلق پیغامات پر چارجز صارفین سے لیے جاتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ چارجز براہِ راست ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کیے جاتے ہیں اور اسٹیٹ بینک اس مد میں کوئی رقم وصول نہیں کرتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کا انکشاف نواز شریف کو پاکستان کی حفاظت کرنے والا ستون سمجھتے ہیں،ایرانی سفیر ایپسٹین اسکینڈل، تازہ دستاویز سامنے آنے پر اینڈریوکو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیاگیا اسحاق ڈار اور قازقستان کے صدر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور ایف آئی اے افسران کی معطلی کا معاملہ ، نوٹیفکیشن و تفصیلات سب نیوز پر لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو قتل کر دیا گیا افغانستان کے ایجنٹ دہشتگردوں کو بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے، وزیر دفاعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پانچ ہزار روپے کے کے کرنسی نوٹ اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔